صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 56 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 56

صحیح البخاری جلد ۱۶ AY بسم الله الرحمن الرحيم ۸۹ - كِتَاب الْإِكْرَاهِ اکر اہ اور جبر ( کے متعلق احکام شریعت) ۸۹ - كتاب الإكراه علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: اکراہ یہ ہے کہ کسی پر کوئی ایسی چیز لازم کر دینا جسے وہ نہ چاہتا ہو۔اس کی چار شرطیں ہیں: (۱) دھمکی دینے والا اپنی دھمکی کے مطابق عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور مجبور انسان اپنا دفاع کرنے سے عاجز ہو حتی کہ وہ بھاگ کر بھی اپنی جان نہ بچا سکے۔(۲) مجبور شخص کو یقین یا کم از کم ظن غالب ہو کہ اگر وہ اس کے مطابق عمل نہ کر سکا تو جبر کرنے والا اپنی دھمکی کو عملی شکل دے دے گا۔(۳) جبر کرنے والا اپنی دھمکی کو فوری طور پر عملی شکل دینے پر قادر ہو۔اگر اس نے یوں کہا کہ اگر تو نے اب ایسا نہ کیا تو میں کل تجھے مار دوں گا تو ایسا انسان مجبور نہیں ہو گا کیونکہ اسے کل تک کی مہلت ہے ) (۴) مجبور انسان سے اس قسم کا عمل ظاہر نہ ہو جو اُس کے اختیار و ارادے پر دلالت کرتا ہو۔(فتح الباری جزء ۱۲ صفحہ ۳۹۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أَكْرَهَهُ عَلَى الامر کے معنے ہیں: حَمَلَهُ عَلَيْهِ قَهْرًا۔کسی کو کسی کام پر زبر دستی آمادہ کیا۔آكْرَةَ فَلَانًا۔حَمَلَهُ عَلَى أَمْرٍ يَكْرَهُهُ۔اس کو کسی ایسے کام پر آمادہ کیا جس کو وہ نا پسند کرتا تھا۔وَقِيلَ عَلَى الْأَمْرِ لَا يُرِيدُهُ طبعًا أَوْ شَرعًا۔اور بعض کہتے ہیں: اكرة فلانا کے معنے ہیں کہ اس نے اسے ایسے کام پر آمادہ کیا جس کو وہ طبعا یا مذ ہتا نا پسند کرتا تھا۔اس سے اسم فاعل مُكْرِہ اور اسم مفعول مُكْرَة آتا ہے۔(اقرب) ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة النحل، آیت مَنْ كَفَرَ بِالله مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِة ، جلد ۴ صفحه ۲۵۳) قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: الآمَنْ أَكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَبِنٌ بِالْإِيمَانِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ( جو لوگ (بھی) اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کریں) سوائے اُن کے جنہیں (گفر پر مجبور کیا گیا ہو لیکن اُن کا دل ایمان پر مطمئن ہو ( وہ گرفت میں نہ آئیں گے ) وَلكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالكُفْرِ صَدْرًا ہاں وہ جنہوں نے (اپنا) سینہ گفر کے لئے کھول دیا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ ہو اُن پر اللہ کا (بہت) بڑا غضب ( نازل ) ہو گا اور