صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 781 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 781

صحیح البخاری جلد ۱۶ ZAI ۹۷ - كتاب التوحيد صبح اور عصر کے اوقات کی ایک اور خصوصیت بتائی گئی ہے جس کا تعلق در حقیقت عالم روحانی کے ساتھ ہے۔نظام عالم دو جہتیں رکھتا ہے جس کی مثال سینما کی سی ہے۔اس کی ایک جہت میں دیکھنے کے لئے مختلف نظاروں کا لگاتار چکر چل رہا ہوتا ہے اور دوسری جہت میں پس پردہ بجلی کی مشین اور کچھ ہاتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ہو بہو یہی حال نظام عالم کا ہے۔نظام مادی میں جو کچھ ظہور پذیر ہو رہا ہے وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے ایک وسیع علم اور غیر محدود قدرت کے تحت عظیم الشان قوتوں کے ذریعے سے انجام پارہا ہے۔یہ قوتیں قرآنِ مجید کی اصطلاح میں ملائکہ کے نام سے موسوم کی گئی ہیں۔رات دن کے ہر نئے تغیر کے پیچھے بھی نظام عالم کی گل چلانے والی ان روحانی ہستیوں کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے بلکہ کائناتِ عالم کا ذرہ ذرہ ان کے تصرف کے نیچے ہے۔رات کے تغیرات اور نوعیت کے ہوتے ہیں اور دن کے اور نوعیت کے اور اُن کے ساتھ ملائکہ کا جو عملہ لگایا گیا ہے وہ بھی اپنی اپنی نوعیت میں جداگانہ حیثیت اور جداگانہ فرائض رکھتا ہے۔مذکورہ بالا حدیث نظام روحانی کے اسی قسم کے سلسلہ تصرفات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔دن رات کے تغیرات میں صبح کا وقت اور عصر کا وقت ایک ایسا زمانہ ہے جو دراصل استحالہ یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے کا نام ہے۔تغیر و تبدل یوں تو ہر وقت اور ہر لحظہ میں ہی ہو رہا ہے۔مگر ایک نمایاں تغیر کا آغاز ان دو وقتوں میں محسوس طور پر ہوتا ہے۔" (صحیح البخاری، ترجمه و شرح کتاب مواقيت الصلوة ، باب فَضْلُ صَلاة العصر، جلد۱، صفحہ ۶۵۱،۶۵۰) بَاب ٢٤ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وُجُوهٌ يَوْمَن نَاضِرَةٌ إِلى رَبِّهَا ناظرة (القيامة : ٢٤،٢٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اس دن بعض لوگ ہشاش بشاش ہوں گے۔اپنے خدا کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہوں گے ٧٤٣٤: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ۷۴۳۴: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ خالد