صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 780
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۸۰ و- كتاب التوحيد طرف اُٹھائے جاتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے: الیه يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ والعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه (فاطر: ۱۱) یعنی پاک روحیں جو نورانی الوجود ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح اُن کا رفع کرتا ہے یعنی جس قدر عمل صالح ہو اسی قدر روح کارفع ہوتا ہے۔اس جگہ خدائے تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لائید رک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں۔اسی بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے كَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ (النساء:۱۷۲) اور چونکہ یہ ستر ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قو تیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فتا فی اللہ ہونے کی حالت میں اپنے تمام قوئی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آکر کلمتہ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتدا میں وہ کلمتہ اللہ تھیں۔سو کلمتہ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا اُن کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سو انہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے اُن کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔اور ہمارے ظاہر بین علماء اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائد یا اذکار و اشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مراد بھی اذکار و خیرات وغیرہ ہیں۔تو گویاوہ اس تاویل سے علت اور معلول کو ایک کر دیتے ہیں۔اگرچہ کلمات طیبہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴) يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ۔وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ : تمہارے درمیان کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو یکے بعد دیگرے باری باری آتے رہتے ہیں اور عصر کی نماز اور فجر کی نماز میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: