صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 779
صحیح البخاری جلد ۱۶ 229 ۹۷۔کتاب التوحيد ٧٤٣٣: حَدَّثَنَا عَيَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ۷۴۳۳: عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وکیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍ قَالَ نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے، سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان کے باپ نے حضرت ابوذر سے روایت کی۔عَنْ قَوْلِهِ وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَر انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ب: ٣٩) قَالَ مُسْتَقَرُهَا تَحْتَ اللہ تعالیٰ کے اس قول وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍ تها (يس: تھا کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا: اس کا الْعَرْشِ۔أطرافه : ۳۱۹۹، ٤٨۰۲ ، ٤٨٠٣، ٧٤٢٤- جائے قرار عرش کے نیچے ہے۔رح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى تَعْرُجُ الْمَليكة والروح الي الله تعلی کا یہ فرمانا عام فرشتے اور کلام الى لانے والے فرشتے اُس (خدا) کی طرف چڑھتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: آیت ارجعي إلى ربّكِ (الفجر : ۲۹) اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔خدائے تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا پھر کیوں کر کہا جائے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہو گا۔یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے راستباز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اُن کا گوشت اور پوست اور اُن کی ہڈیاں خدائے تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۷) وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الكَلِمُ الطَّيِّبُ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: مقدس لوگوں کو موت کے بعد ایک نورانی جسم ملتا ہے اور وہی نور جو وہ ساتھ رکھتے ہیں جسم کی طرح اُن کے لئے ہو جاتا ہے سو وہ اس کے ساتھ آسمان کی ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔“