صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 778
صحیح البخاری جلد ۱۶ LLA ۹۷- كتاب التوحيد فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَائی درمیان اس ٹکڑے کو بانٹ دیا جس سے قریش الْجَبِينِ كَثُ اللَّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ اور انصار ناراض ہو گئے اور کہنے لگے : اہل نجد کے مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اللَّهَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپؐ نے فرمایا: میں تو ان کی تالیف قلب چاہتا فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ فَيَأْمَنُنِي ہوں۔ اتنے میں ایک شخص جس کی آنکھیں اندر عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ فَسَأَلَ ھسی ہوئیں، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی بہت گھنی، رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ۔ أَرَاهُ خَالِدَ بْنَ رخسار باہر نکلے ہوئے اور سر منڈا ہوا تھا، آیا اور الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ فرمایا: اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو پھر اور کون عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ ضِنْضِي هَذَا قَوْمًا اس کی فرمانبرداری کرے گا۔ وہ تو زمین والوں کے معاملات کے متعلق مجھ پر اعتبار کرتا ہے اور تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کو مار ڈالنے کی اجازت مانگی۔ میں سمجھتا ہوں خالد بن ولید تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اُترے گا۔ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ۔ رم ہے۔ اہل اسلام سے لڑیں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو میں ضرور انہیں عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں۔ أطرافه : ٣٣٤٤، ٣٦١٠، ٤٣٥١، ٤٦٦٧، 5058 ، 6163، 6931، 1933، ٧٥٦٢۔