صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 55
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۵ ۸۸ - کتاب استتابة المرتدين۔۔۔لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔غرض فرمایا کہ قرآن کریم کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ہر زمانہ کے لیے کافی ہو گا۔اس میں ہر زمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہو گی۔اگر اس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے تو ان کی تردید کی جائے گی اور اگر صحیح ہوں گے تو تائید کی جائے گی۔در حقیقت قرآن کریم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اس کے نیچے تہ بہ تہ جمع کر دیتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کے نئے نئے معانی اور مطالب نکلتے آئیں گے۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ العنکبوت، آیت اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الكتب، جلد ۷ صفحه ۶۶۵ تا ۶۶۹) قَالَ انطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَة حاج : روضہ حاج کے بارے میں علامہ عینی لکھتے ہیں کہ هُوَ موضع قریب من مكة قَالَه فِي التَّوْضِيح وَقَالَ النَّوَوِى وهى يقرب المَدِينَة وَقَالَ الْوَاقِدِي هِيَ بِالقرب من ذي الحليفة وقيل من الْمَدِينَة تخوانتى عشر ميلًا - (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۹۳) یعنی توضیح میں ہے کہ یہ جگہ مکہ کے قریب ہے اور علامہ نووی نے کہا ہے کہ یہ جگہ مدینہ کے قریب ہے اور علامہ الواقدی نے کہا ہے کہ یہ جگہ ذوالحلیفہ کے قریب ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ جگہ مدینہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ہے۔