صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 774 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 774

صحیح البخاری جلد ۱۶ ہم سے ہے ۹۷ - كتاب التوحيد اپنے خادم زید کے لئے اس کے وارثوں کو ناطے کا پیغام دیا۔وہ اپنی عظمت اور شرافت شان کے خیال سے اوّل تو ناراض ہوئے پھر آخر کار راضی ہو گئے۔کچھ مدت تو جوں توں کر کے بسر ہوئی۔آخر زید نے اس کی تعلی اور طنز و تعریض سے تنگ آکر اس کے چھوڑ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔چونکہ آپ بذاتِ مبارک اس شادی کے انصرام کے متکفل ہوئے تھے۔اس لئے اس طلاق کے انجام اور اس کے مفاسد پر قومی دستوروں اور حالات معاشرت ملکی کے لحاظ سے آپ کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔اس میں شک نہیں کہ رخنہ جو کفار اور حیلہ طلب معاندین کو رسما و عرفا ایسے موقع پر بہت ملامت و طنز کا قابو مل سکتا تھا۔اور آپ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ اس مفارقت اور معاشرتی نا چاقی کا حال مخالفین منکرین پر کھلنے پائے جو اُن کی زبان درازی اور تعریض کا باعث ہو۔اور نیز زینب کے وارثوں کا خیال ایک رسمی اور قومی خیال تھا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو اور بھی مضطرب کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔بنا بر آں آپ نے زید کو بہت روکا۔اور تلخی معاشرت پر صبر کرنے کی بہت نصیحت و ہدایت کی اور سخت الحاح و اصرار کیا کہ وہ اس ارادے سے باز آجاوے۔مگر خدا کو ایک عظیم الشان کام پورا کرنا اور ایک خلاف قدرت مصر معاشرت رسم کا توڑ نا منظور تھا۔اس موقع پر قرآن کے الفاظ جن میں آنحضرت کی دلی حالت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔الہامی حقیقت پہچاننے والے منصف کے نزدیک قابل غور ہیں۔" حقائق الفرقان، جلد ۳، صفحه ۴۱۲) بَاب ۲۳ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى تَعْرُجُ الْمَلَيكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (المعارج: ٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: عام فرشتے اور کلام الہی لانے والے فرشتے اُس (خدا) کی طرف چڑھتے ہیں وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ اور اللہ جل ذکرہ کا فرمانا: پاک باتیں اسی کی طرف چڑھ کر جاتی ہیں۔الطيب (فاطر: ۱۱) وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَلَغَ اور ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا۔