صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 773
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۷۳ ۹۷- كتاب التوحيد کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کر کے تشبیہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرار گاہ نہیں کہلا سکتا۔ وجہ یہ کہ وہ معرضِ زوال میں ہے اور ہر ایک وقت میں زوال اُس سر پر ہے بلکہ خدا کی قرار گاہ وہ مقام ہے ؟ رار گاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ کے : مقام عرش ہے۔ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۶ تا ۲۷۸) فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ : اس لئے جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس مانگو۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: جہاں تک لفظ فردوس کا تعلق ہے زجاج جس کا شمار چوٹی کے ادباء میں سے ہے، اس کی تحقیق ہے کہ فردوس ہے کہ فردوس ان وادیوں کو کہتے ہیں کہ جہاں ہر قسم کی نباتات پائی جاتی ہوں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه (۹۰) مندرجہ بالا حدیث نبوی میں فردوس انتہائی مقام بتایا گیا ہے جس کے اوپر اور کوئی مقام نہیں سوائے عرش الرحمن کے۔ صفت رحمانیت کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنت کے سو درجوں میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اس حساب سے اس کی وسعت کئی آسمانوں کی وسعت ہے۔ اس وسعت بے پایاں کا ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ہے: سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا لَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الحديد: ۲۲) یعنی اے لوگو ! تم اپنے رب کی طرف سے آنے والی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی قیمت تمام آسمان اور زمین کی قیمت کے برابر ہے۔ اسی جنت الفردوس کا وعدہ مجاہدین سے کیا گیا ہے جس سے ان کے درجات کی فضیلت ظاہر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فردوس حاصل کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں فرمائی ہے : فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْتَلُوا الْفِرْدَوس“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح كِتَابُ الجِهَادِ وَ السِّيرِ ، بَابُ دَرَجَاتِ المُجَاهِدین۔۔۔۔ جلد ۵، صفحه ۱۵۱، ۱۵۲) جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو ۔۔ انتي الله : حضرت زید بن حارثہ آئے شکوہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : اللہ سے ڈرو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اصل قصہ یوں ہے کہ زینب ایک بڑے خاندان کی عورت تھی۔ آنحضرت نے