صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 772
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۷۲ ۹۷۔کتاب التوحيد کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔اور عرش جو ہر ایک عالم سے بر تر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں؛ ایک صفت تشبیبی، دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرناضروری تھا یعنی ایک تشبیبی صفت اور دوسری تنزیہی صفت۔اس لئے خدا نے تشبیبی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ ، آنکھ ، محبت، غضب و غیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَيْسَ كَمِثْلِہ کہہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى العرش کہہ دیا جیسا کہ سورہ رعد جزو نمبر 11 میں بھی یہ آیت ہے: اللهُ الَّذِی رَفَعَ السمواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الرعد: ۳) (ترجمہ) تمہارا خداوہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنی کے رُو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا۔اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اُس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور ظلی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے اور پھر سورۃ طہ جزو نمبر 4 میں یہ آیت ہے الرحمنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى (طه:٢) ( ترجمه ) خدارحمن ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر چہ اُس نے انسان کو پیدا کر کے بہت سا قرب اپنا اُس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام تشبیبی تجلیات اُس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر از لی طور پر قرار گاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے