صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 771 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 771

صحیح البخاری جلد ۱۶ 441 ۹۷۔کتاب التوحيد ضرور جواب میں کہیں گے کہ اللہ۔اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ رب العرش ہے تو معلوم ہوا کہ وہ عرش کا خالق ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ رب کے صرف خالق کے ہی معنی نہیں ہوتے بلکہ صاحب کے بھی ہوتے ہیں۔جیسے رب المال۔پس رب العرش کے معنی والے “ کے ہیں یعنی عرش والا۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے : ذُو الرَّحْمَةِ ( كهف ع۸) خدا تعالیٰ رحمت والا ہے۔اور اسی طرح فرمایا ہے فالله الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر ع ۴) حالانکہ رحمت اور عزت دونوں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔اور نہ ذوالرحمت کہنے سے رحمت مخلوق ثابت ہوتی ہے اور نہ للہ العزۃ کہنے سے عزة مخلوق ثابت ہوتی ہے۔پس رب العرش کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفات تنزیہیہ بھی رکھتا ہے جس طرح کہ وہ صفات تشبیبیہ رکھتا ہے۔صفات تشبیبیہ کی طرف سموات کی پیدائش سے اشارہ کیا ہے۔اس امر کا ثبوت کہ عرش سے مراد صفات تنزیہیہ ہیں یہ آیت ا ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ (مومنون ع۶) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش کریم کو توحید باری کے ثابت کرنے میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ توحید کا اعلیٰ اصلی اور حقیقی ثبوت اللہ تعالیٰ کی صفات تنزیہیہ ہی ہیں کیونکہ صفات تشبہیہیہ میں مخلوق شریک ہو جاتی ہے۔اور ایک کمزور عقل والے انسان کے لئے بہت سے افہام و تفہیم کی ضرورت پیش آتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ یونس زیر آیت اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، جلد ۳ صفحه ۲۳ تا ۲۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے بر تر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اُس پر بیٹھا ہوا ہے اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے۔ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ