صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 770
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۷٠ ۹۷ - كتاب التوحيد ہے تو معلوم ہو اوہ ایک مخلوق شئے ہے۔لیکن یہ استدلال درست نہیں۔کیونکہ حمل کے معنی صرف کسی مادی چیز کے اٹھانے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنی اس کی حقیقت کے اظہار کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يضِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًاه احزاب ع۹) یعنی ہم نے اس امانت (شریعت) کو آسمان اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا۔مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔وہ یقیناً اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اور نتائج سے بے پرواہ ہے۔اس جگہ امانت کے اٹھانے کا ذکر ہے جس کے صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اس پر عمل کر کے اس کے نتائج اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح عرش کے اٹھانے کے یہ معنی ہیں کہ عرش کی حقیقت کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزیہیہ کو انسان نہیں پہنچ سکتا۔سوائے اس طریق کے کہ اس کی صفات تشبیہیہ کے ذریعہ سے اس کا علم ہو۔پس صفات تشبیہیہ صفات تنزیہیہ کی حامل ہیں۔اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔مثلاً خد اتعالیٰ کے سب خوبیوں کے جامع ہونے کا علم ہمیں صرف ان صفات کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔جیسے اس کا رب ہونا، رحمن ہونا، رحیم ہونا، مالک یوم الدین ہونا۔اور یہ سب صفات تشبیہ یہ ہیں کہ انسانی اخلاق بھی ان کے ہم شکل پائے جاتے ہیں۔اور پھر یہ صفات مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔اور اس لئے ان کے جلوے عارضی ہوتے ہیں۔لیکن اگر یہ صفات نہ ہو تیں تو اللہ تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے کا کسی قسم کا اور اک بھی خواہ کتنا ہی ادنیٰ ہو ہمیں حاصل نہ ہو سکتا۔ایک اور آیت بھی ہے جس سے عرش کے مخلوق ہونے کا استدلال کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے: قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوتِ السَّبْع وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ (مومنون ع۵) یعنی پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے۔وہ