صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 769 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 769

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۶۹ ۹۷۔کتاب التوحيد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ کی۔آپ نے فرمایا: میں پہلا ہوں گا جسے اُٹھایا بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ۔جائے گا۔میں کیا دیکھوں گا کہ موسی عرش کو پکڑے ہوئے ہیں۔أطرافه : ۲٤١١، ۳۴۰۸ ،٣٤١٤ ٦٥١٧، ٦٥١ ٧٤٧٢- ح شریح: وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ : اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور اس کا عرش پانی پر ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرش کا لفظ تشریح طلب ہے۔عرش کے متعلق لوگوں میں بہت کچھ اختلاف ہے۔بعض لوگ اسے ایک جسم قرار دیتے ہیں۔بعض اس کی حقیقت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں اور صرف لفظ پر ایمان لاناکافی سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمہ معرفت میں عرش کی حقیقت پر ایک لطیف بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ عرش در حقیقت صفات تنزیہیہ کا نام ہے جو ازلی اور غیر مبدل ہیں ان کا ظہور صفات تشبیہیہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔اور وہ حامل عرش کہلاتی ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَنِيَةُ قیامت کے دن تیرے رب کا عرش آٹھ (امور ) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔یعنی آٹھ صفات کے ذریعہ سے ان کا ظہور ہو رہا ہو گا۔جیسا کہ اس وقت چار صفات سے ہوتا ہے۔یعنی رب العالمین، رحمن، رحیم اور مالک یوم الدین کے ذریعہ سے۔چونکہ صفات الہیہ کا ظہور فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے، اس لئے یہاں ھند کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔جس طرح بادشاہ اپنی جلالت شان کا اظہار عرش پر بیٹھ کر کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اصل عظمت ذو العرش ہونے میں ہے۔یعنی صفات تنزیہیہ کے ذریعہ سے جن میں کوئی مخلوق اس سے ایک ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتی۔بعض لوگوں نے قرآن کریم کی بعض آیات سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ عرش مخلوق ہے۔جیسے مثلاً یہ آیت ہے: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ يحَمدِ رَبِّهِمْ (سورۃ مومن ع۱) وہ کہتے ہیں کہ عرش کو جب کسی نے اٹھایا ہوا