صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 54
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں، اِس کے ایک معنے یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے بڑے تغیرات آئیں گے اور ہر تغیر کے زمانہ میں لوگوں کے ذہن بدل جائیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ قرآن کریم کے ایسے معنے کھول دے گا جو لوگوں کے اس وقت کے ذہنوں اور قلوب کو تسلی دینے والے ہوں گے۔اس زمانہ میں بیسیوں مسائل ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اور اہمیت محسوس نہیں کی جا سکتی تھی۔مثلاً آیات قرآنی کے نسخ کا مسئلہ ہے۔پہلے ایسے وقت میں نسخ کا سوال پید ا ہوا کہ اس وقت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ تھی کیونکہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تھا۔پس با وجود نسخ کے عقیدہ کے یہ بات قرآن کریم کی سچائی کے معلوم کرنے میں روک نہ بن سکتی تھی۔لیکن جب ایسا زمانہ آیا کہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دور ہوئے اور دنیا کے ذہنی اور علمی تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے نہ کر سکے تو کہنے لگے یہ آیت بھی منسوخ ہے اور وہ آیت بھی منسوخ ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ان معنوں میں منسوخ نہیں ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا اور جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا تھا اُن کے ایسے معنے بیان فرمائے جنہیں لوگوں کی عقلیں بآسانی قبول کر سکتی ہیں۔یہ ان آیات کا دوسرا بطن تھا جو خدا تعالیٰ نے آپ پر کھولا۔تو قرآن کریم کے سات بطن سے مرادسات عظیم الشان ذہنی اور عقلی اور علمی تغیرات ہو سکتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں تو ایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغیر آیا تو ان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنے نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغییر آتے جائیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا اور