صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 764
صحیح البخاری جلد ۱۶ لام کے ۹۷- كتاب التوحيد وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْفَيْضُ أَوِ الْقَبْضُ يَرْفَعُ کم نہیں کیا جو اس کے داہنے ہاتھ میں ہے اور اس وَيَخْفِضُ۔ أطرافه : ٤٦٨٤ ، ٥٣٥٢، ٧٤١١، ٧٤٩٦۔ کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں بھی فیض ہے یا (کہا:) قبض ہے۔ وہ اُٹھاتا ہے اور نیچے کرتا ہے۔ ٧٤٢٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ۷۴۲۰ : احمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابو بکر بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ مقدمی نے ہمیں بتایا۔ حماد بن زید نے ہم سے بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ بیان کیا۔ حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو فَجَعَلَ النَّبِيُّ انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زید صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقِ اللهَ بن حارثہ آئے شکوہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ وَأَمْسِكَ عَلَيْكَ زَوْجَكَ قَالَ أَنَسٌ لَوْ علیہ وسلم فرمانے لگے: اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے پاس رہنے دو۔ حضرت انس کہتے تھے: اگر كَائِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت انس فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ کہتے تھے کہ حضرت زینب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ زَوَّجَكُنَّ ازواج پر فخر کیا کرتی تھیں۔ کہتی تھیں: تمہارے أَهَا لِيكُنَّ وَزَوَّجَنِي اللهُ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ گھر والوں نے تمہارا نکاح کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سَبْعِ سَمَوَاتٍ وَعَنْ ثَابِتٍ وَتُخْفِي فِي سات آسمانوں کے اوپر میرا نکاح کیا۔ اور ثابت نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ سے مروی ہے کہ یہ آیت وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا (الاحزاب: ۳۸) نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ اللهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ کے حضرت زینب اور حضرت زید بن حارثہ کے متعلق اتری تھی۔ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ۔ طرفه : ٤٧٨٧ - فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ الایة“ ہے۔ (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۴۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ دور تو ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : یح الله ابع: ” اور تو اپنے نفس میں وہ بات چھپارہا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے خائف تھا۔“