صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 763
صحيح البخاری جلد ١٦ ۷۶۳ ۹۷- كتاب التوحيد عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ لو۔ جبکہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا۔ انہوں كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٍ قَبْلَهُ وَكَانَ نے کہا : ہم نے قبول کی۔ ہم آپ کے پاس اس لئے عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ آئے ہیں تادین کی سمجھ حاصل کریں اور تا آپ سے اس سلسلہ کون کی ابتدا کے متعلق دریافت کریں وَالْأَرْضَ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ کہ پہلے کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تھا اور ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ اس سے پہلے کوئی شے نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا تھا۔ پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا وَايْمُ اللَّهِ ذکر میں ہر شے لکھ دی۔ (حضرت عمران کہتے لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ۔ تھے کہ) پھر اس کے بعد ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عمران اپنی اونٹنی کو سنبھالو کیونکہ وہ چلی گئی ہے۔ یہ سن کر میں چلا گیا۔ اس کو تلاش کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے اس طرف سراب لہریں مار رہا ہے اور اللہ کی قسم میری یہ آرزور ہی کاش وہ چلی جاتی اور میں نہ اٹھتا۔ أطرافه: ۳۱۹۰، 31۹۱، 4365، 4386۔ ٧٤١٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۴۱۹: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ معمر نے ہمام سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت ابوہریرہ نے نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ يَمِينَ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے رات دن کھلے ہاتھوں اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خرچ اس کے خزانے کو نہیں گھٹاتا۔ بھلا تم نے خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ دیکھا کہ جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ہے کتنا کچھ خرچ کیا ہے؟ اس نے بھی اس خزانہ کو