صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 762
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۶۲ ۹۷۔کتاب التوحید بَاب ۲۲ : وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود: ۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور اس کا عرش پانی پر ہے وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (التوبة: ۱۲۹) اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ استولى إلى ابو العالیہ نے کہا: اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ کے معنی السَّمَاء (البقرة: (۳۰) ارتَفَعَ، فَسَوالھن ہیں: بلند ہوا۔فَسَواهُنَّ کے معنی ہیں: اس نے ان (البقرة: (٣٠) خَلَقَهُنَّ وَقَالَ مُجَاهِدٌ کو پیدا کیا۔اور مجاہد نے کہا: استوی کے معنی ہیں: اسْتَوَى (البقرة: ٣٠) عَلَا عَلَى الْعَرْشِ عرش پر بلند ہوا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْمَجِيدُ (البروج : ١٦) الْمَجِيدُ کے معنی ہیں کریم اور الودود کے معنی ہیں الْكَرِيمُ، وَالْوَدُودُ (البروج : ١٥) الحبيب محبت رکھنے والا۔کہتے ہیں: حمید مجید گویا کہ یہ الْحَبِيبُ۔يُقَالُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (هود: ٧٤) كَأَنَّهُ فعیل کا وزن ہے ماجد سے، محمود حمد سے ہے۔فَعِيلٌ مِّنْ مَاجِدٍ مَحْمُودٌ مِّنْ حَمِدَ۔٧٤١٨: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۷۴۱۸ عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جَامِعِ بْنِ ابو حمزہ سے روایت ہے۔ابو حمزہ نے اعمش سے، شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ عَنْ اعمش نے جامع بن شداد سے، جامع نے صفوان عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ قَالَ إِنَّنِي عِنْدَ بن محرز سے، صفوان نے حضرت عمران بن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ حسینؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نبی قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اقْبَلُوا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب آپ کے پاس الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا بَشَّرْتَنَا بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے۔آپ نے فرمایا: اے فَأَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مَنْ أَهْلِ الْيَمَنِ بنو تمیم ! خوشخبری کو قبول کرلو۔انہوں نے کہا: فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے، ہمیں کچھ دیں إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَبِلْنَا بھی۔پھر اہل یمن سے کچھ لوگ اندر آئے۔جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ وَلِيَسْأَلَكَ آپ نے فرمایا: یمن والو تم خوشخبری کو قبول کر