صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 761
صحیح البخاری جلد ۱۶ 241 ۹۷ - كتاب التوحيد ہی اجازت چاہتے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ تم نے اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھا لیکن تم قاضی کے پاس جاؤ۔وہ فیصلہ کرے گا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یا غلط۔اب یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے کسی صورت میں بھی شرعی تعزیر کی جس میں قتل کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور قید کرنا شامل ہیں کسی فرد کو اجازت نہیں دی۔(خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۱، جلد ۳۲، صفحه ۱۸۳) بَاب ۲۱ : قُلْ أَنَّى شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةٌ قُلِ اللهُ (الأنعام:۲۰) تو کہہ سب سے زیادہ (سچی) گواہی دینے والی کون سی ہستی ہے؟ پھر خود ہی جواب میں ) کہہ دے کہ اللہ فَسَمَّى اللَّهُ تَعَالَى نَفْسَهُ شَيْئًا وَسَمَّى اور اللہ تعالیٰ نے اپنا نام شَيْئًا رکھا اور نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ علیہ وسلم نے قرآن کا نام شَيْئًا رکھا اور یہ اللہ کی شَيْئًا وَهُوَ صِفَةٌ مِنْ صِفَاتِ الله صفات میں سے ایک صفت ہے اور فرمایا: ہر ایک وَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے جس کی طرف اس (اللہ) کی توجہ ہو۔(القصص: ۸۹)۔٧٤١٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۴۱۷: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حازم سے، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا شَيْءٍ؟ قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا۔تمہارے پاس قرآن میں سے کوئی شے ہے ؟ اُس نے چند سورتوں کا نام لے کر کہا: ہاں فلاں فلاں سورة- أطرافه : ۲۳۱۰، ۵۰۲۹، ۵۰۳۰، ۵۰۸۷، ۵۱۲۱، ۵۱۲۶، ۵۱۳۲، 5135، 5141، 5149،