صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 760
صحیح البخاری جلد ۱۶ 24۔۹۷ - كتاب التوحيد دی ہے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے شادی شدہ زنا کرنے والے مرد یا عورت کو خود قتل کر دینے کو ناجائز قرار دیا اور ایسا کرنے والے کو قاتل ٹھہرایا۔فرض کرو ایک شخص کسی مجرم کو سزا دیتا ہے اور واقعی انصاف بھی وہی ہے جو اس نے کیا پھر بھی اس کا ایسا کرنا اسے مجرم بناتا ہے مثلاً اس نے کسی شخص کو دو تھپڑ مارے اور واقعی اس شخص کی سزا دو تھپڑ ہی تھی۔مگر پھر بھی اس کا خود بخود اسے دو تھپڑ مارنا اسے مجرم بنا دیتا ہے کیونکہ یہ قاضی کا حق تھا کہ اس کے لئے تھپڑ تجویز کرے یا چاہے تو اسے چھوڑ دے۔پس جو شخص خود بخود دو تھپڑ مار دیتا ہے وہ جرم کرتا ہے۔میں نے دوستوں کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی طرح بھی جائز نہیں مگر پھر بھی لوگ جوش میں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور ذراسی بات پر غصہ میں آکر قانون کو ہاتھ میں لینے پر اتر آتے ہیں“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۱۲ جون ۱۹۴۲، جلد ۲۳ صفحه ۲۰۴،۲۰۳) نیز فرمایا: "اصل امن والی تعلیم قرآن کریم ہے۔یہ کتنی پاکیزہ تعلیم ہے کہ حکومت کے سوا کسی کو شرعی تعزیر دینے کا اختیار نہیں اور حکومت بھی اسی تعزیر کا اختیار رکھتی ہے جس کا اختیار اُسے قرآن کریم نے دیا ہے۔گویا پہلے عوام کے ہاتھ بند کیے، پھر حکومت کے ہاتھ یہ کہہ کر بند کر دیئے کہ تم بھی قضاء کے ذریعہ ہی تعزیر کا اختیار رکھتے ہو۔ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو آیا مجھے اُس کو قتل کرنے کی اجازت ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اُسے قتل کرو گے تو اس کے بدلہ میں تمہیں قتل کیا جائے گا۔تم گواہ پیش کرو۔اُس شخص نے کہا یارسول اللہ ! اتنا دیوث کون ہو گا کہ وہ اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے۔اسلام نے ایسے شخص کی سزا قتل رکھی ہے تو کیوں نہ میں اُسے مار دوں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تو پکڑے جاؤ گے۔اُس وقت تک زانی کو رجم کیا جاتا تھا اور وہ صحابی بھی اسے قتل کرنے کے لیے