صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 759 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 759

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵۹ ۹۷ - كتاب التوحيد ترک کوئے حق از وفا ڈورست حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دل بغیرے مدہ کہ غیورست (براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۱۲۷) ترجمہ: خدا کے کوچہ کو چھوڑ دینا وفاداری سے بعید ہے۔غیر سے دل نہ لگا کیونکہ خدا بڑا غیرت مند ہے۔( در ثمین فارسی مع اردو ترجمہ وٹر انسلٹریشن، صفحہ ۶۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسلمانوں کے ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے۔میں اس بحث میں اس وقت نہیں پڑتا کہ غلط ہے یا صحیح مگر بہر حال ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسی عورت یا مرد جو شادی شدہ ہوں وہ اگر زنا کریں تو ان کی سزار جسم ہے یعنی پتھر مار مار کر انہیں مار دیا جائے۔ایک شخص رسول کریم مئی الی یکم کے پاس آیا اور کہا کہ یار سول اللہ ! اگر کوئی شادی شدہ مسلمان مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزار جم ہے یا نہیں۔آپ نے فرمایا ہاں ہے۔اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو اس حالت میں دیکھے تو کیا جائز ہے کہ وہ اس مرد کو مار دے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ قاتل ہو گا۔یہ قاضی کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی زانی رحم کے قابل ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص خود ہی فیصلہ کر سے کسی کو قتل کرے گا تو خواہ مقتول واقعی مجرم ہو پھر بھی ہم قتل کرنے والے کو قاتل سمجھ کر اسے قتل کریں گے۔تو جہاں سزا معین ہے ایسی معین کہ اس میں تبدیلی کا امکان ہی نہیں۔اس میں بھی شریعت نے خود بخود فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ رسول کریم صلى الل ل ا م نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی ایسی سزا بھی خود دے گا اور ایسے جرم کے نتیجہ میں بھی جس کی سزا واقعی قتل ہے خود کسی کو قتل کر دے گا تو اسے قاتل قرار دیا جائے گا کیونکہ سزا دینا اس کا حق نہ تھا۔تو ہر بات کے لئے اسلام نے قانون مقرر کئے ہیں مگر افسوس کہ ہم میں سے بعض لوگ ابھی ایسے ہیں جو جوشِ نفس یا غصہ کے ماتحت قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو کیا ہے انصاف کیا ہے۔لیکن دراصل وہ خود جرم کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے مثال