صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 758
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵۸ ۹۷ - كتاب التوحيد خدا تعالیٰ سے بھی بڑا غیرت مند ظاہر کرنا چاہیں۔کہتے ہیں ماں سے زیادہ چاہے کٹنی کہلائے۔جو لوگ خد اتعالیٰ سے بھی زیادہ غیرت دکھانا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ غیرت نہیں دکھاتا۔وہ کہتا ہے یہ اپنا کام خود کرتا ہے ہمیں اس کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ اسی کے لئے غیرت دکھاتا ہے جس کے دل میں دین کے لئے سچی غیرت ہو۔جو ہر بد گو، ہر طنز کرنے والے، ہر طعن کرنے والے اور سلسلہ کے خلاف ہر منصوبہ کرنے والے سے اجتناب کرتا ہے اور ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔اگر کسی مجلس میں دین سے استہزاء ہو رہا ہو تو فوراً اُٹھ کر چلا جاتا ہے۔اس کے دل میں جوش آتا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اسے دبا لیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ چونکہ خدا تعالی نے جوش کی وجہ سے قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی اس لئے میں اپنے جوش کو دباؤں گا۔ایسے شخص کے لئے خدا تعالیٰ خود آسمان سے اترتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندے کو تکلیف پہنچی مگر اس نے میرے لئے صبر کیا لیکن میں صبر نہیں کروں گا بلکہ بدلہ لوں گا اور اسے تکلیف پہنچانے والے کو میں خود سزا دوں گا اور خدا تعالیٰ سے بڑھ کر بدلہ لینے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ جسے خدا تعالیٰ سزا دے اس کے لئے کوئی چارہ گر بھی نہیں ہو سکتا۔لوگ لاٹھی مار کر ایک دوسرے کا سر پھوڑ دیتے ہیں مگر ڈاکٹر اس کا علاج کر کے اچھا کر دیتے ہیں۔پیٹ میں خنجر گھونپ دیتے ہیں مگر ڈاکٹر علاج کر کے بچالیتے ہیں اور اگر وہ مر بھی جائے تو گورنمنٹ انتقام لیتی ہے اور مجرم کو سزا دیتی ہے بعض اوقات ایک شخص کے قتل پر دس ہیں لوگوں کو پھانسی دے دیا جاتا ہے مگر دیکھو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے غیرت دکھائی اور طاعون سے ایک کروڑ انسان ہلاک کر دیئے۔کیا اتنی اموات کے نتیجہ میں گورنمنٹ کسی ایک شخص کو بھی پھانسی دے سکی۔کتنا عظیم الشان فرق ہے خدا تعالیٰ اور بندے کی سزا میں۔بندے کی سزا اس کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا رکھتی ہے۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۱ جولائی ۱۹۴۱، جلد ۲۲ صفحه ۳۵۶،۳۵۵)