صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۳ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين زبانوں کے آدمی جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے۔سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے۔ان حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اس حرکت سے پڑھ لیتی ہے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۲۹٬۴۲۸) سبعة أحرف کی ایک اور تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔عام طور پر لوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زمانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوں کو قرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنے نظر نہ آئے جو بعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے جو نکات اور معارف نکالے ، وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کر کے نہیں نکالے۔آیات وہی تھیں، ہاں آپ پر اس زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اور صلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے امن کے احکام اور صلح کی تعلیم پیش فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ هِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَنِ بُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَه (الغاشیۃ:۲۳) یعنی تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تولوگوں سے جبری طور پر اپنا مذہب منوائے، نہ ہم نے اُن پر جبر کرنے کے لئے بھیجا ہے جو منہ پھیر لیتے ہیں اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ان لوگوں کو سزا دینا خدا کا کام ہے تیراکام نہیں کیونکہ خدا دلوں کے حالات کو جانتا ہے تو نہیں جانتا۔یہ دوسرا بطن تھا جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق آپ پر کھولا گیا اور اسلام کی تائید میں تلوار اُٹھانے سے منع کیا گیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ