صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 755 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 755

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۷۵۵ ۹۷ - كتاب التوحيد وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بِيَمِينِهِ ، یعنی لپیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی۔اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کا ملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ 0 (الرحمن: ۲۸،۲۷) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن: ۱۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانت دکھلائے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر ہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم وعلیم کی شان کے لائق نہیں یہ صرف انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے جس کا کوئی وعدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے موانع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔اور با ایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدے اس کی صفات قدیمہ کے تقاضا کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اس کی غیر متناہی حکمت کی 66 شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۵) عرشه عَلَى الْمَاءِ : حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”اس کا عرش پانی پر ہے۔جسمانی زندگی ہو یا روحانی دونوں کا قیام آسمانی آب حیات سے ہے۔قرآن مجید کی متعدد جگہوں میں وحی الہی آسمانی پانی سے تعبیر فرمائی گئی ہے۔عرش تخت حکومت یعنی شرعی ضابطہ و نظام کا نام ہے۔اس سے مراد وہ اُصول (بخاری، کتاب التوحيد، باب قول الله تعالى لِمَا خَلَقْتُ بیدی، روایت نمبر (۷۴۱۲