صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 756
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۵۶ ۹۷- كتاب التوحيد شریعت ہیں جن پر روحانی زندگی کا دارو مدار ہے۔ مذکورہ بالا آیت سے یہی روحانی نظام مراد ہے ۔ “ ( صحیح البخاری، کتاب التفسیر،سورة هود باب ۱۳، جلد ۱۰، صفحه ۴۱۵) نیز آپ فرماتے ہیں: كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ سے مراد یہ ہے کہ اس عالم کی ابتداء عرش و پانی سے ہوئی ہے۔ پانی وجود کی پہلی شکل ہے جس سے کائناتِ عالم مختلف شکلوں میں متکیف و ظہور پذیر ہوئیں۔“ ( صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي يَبْدُوا الْخَلْقَ ، جلد ۶ ، صفحہ ۸) باب ۲۰ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ اور عبید اللہ بن عمرو نے عبد الملک سے نقل کیا: عَبْدِ الْمَلِكِ لَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ۔ کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں۔ : ٧٤١٦ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۴۱۶: موسیٰ بن اسماعیل تبوذ کی نے ہم سے التَّبُودَكِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبد الملک نے عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ وَرَادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ہم سے بیان کیا۔ عبد الملک نے وزاد سے، جو عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ حضرت مغیرہ کے منشی تھے، تھے، روایت کی کہ حضرت لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ مغیرہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ کہتے تھے: اگر میں اپنی بیوی کے بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ ساتھ کسی شخص کو دیکھوں تو میں اس کو تلوار سے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اڑا دوں جو خطا نہ جائے۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ وَاللهِ لیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ سعد کی غیرت لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ سے تم تعجب کرتے ہو۔ اللہ کی قسم میں اس سے أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت کی وجہ ہی ہے جو