صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 754
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۵۴ ۹۷- كتاب التوحيد کرتا ہے تب حکم ہے کہ ہر دوسری مخلوق کے لئے فرض ہے چونکہ یہ اب خدا کی نمائندگی کر رہا ہے اس لئے اس کے سامنے ضرور جھکو کیونکہ اب اس کے سامنے جھکنا اس کے وجود کے سامنے جھکنا نہیں رہا بلکہ اللہ کے سامنے اور خالق کے سامنے جھکنا بن گیا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جسے چند لفظوں میں سمجھایا گیا اور ا بھی اس مضمون کے بہت سے پہلو ہیں جن پر میں تفصیل سے روشنی نہیں ڈال رہا۔ لیکن اس سے آپ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک لفظ میں کتنے مضامین سمیٹ کر رکھ دیتے ہیں۔“ (خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۹۳ء، جلد ۱۲ صفحه ۲۷۴، ۲۷۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: خَلَقْتُ بِيَدَى (ص: ٧٦) یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھ سے پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں۔ پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی جاتی ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا۔ “ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیه صفحه ۲۸۱، ۲۸۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَالسَّمَوتُ مَطْوِيتُ بِيَمِينِهِ (الزمر :۶۸) یعنی دنیا کے فنا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا۔ پھر ایک دوسری آیت ہے جو سورۃ الانبیاء جزوے امیں ہے اور وہ یہ ہے: يَوْمَ تطوى السَّمَاء كَطَيّ السّجل لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبياء : ۱۰۵) یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔ اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔ بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں: