صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 753
صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت خلیفۃ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ۷۵۳ ۹۷ - كتاب التوحيد ”یہاں خلیفہ اللہ کا ذکر چل رہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے بنانے کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے نظام کے دونوں پہلو یعنی روحانی اور دنیاوی یہ تمام تر اس کی پشت پناہی کریں گے کیونکہ خدا نے اپنی ہر قسم کی طاقتوں کے مجموعہ سے خلیفہ اللہ کی تخلیق کی ہے۔دو ہاتھ سے مراد پہلے انسان کی وہ حالت ہے جب وہ ارتقائی مدارج سے رفتہ رفتہ گزرتا ہوا اس بلند مقام تک پہنچا ہے جہاں وہ اس شرف کے قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام ہو ، جہاں وہ اس شرف کے لائق قرار دیا گیا کہ خدا کی نمائندگی کرے۔اس مقام تک جتنے بھی محرکات ہیں جس نے آدم کی اس بلند درجہ تک رہنمائی کی ہے اور ان بلند مدارج کو حاصل کرنے میں عوامل کا کام کیا ہے وہ تمام خدا کے اس نظام سے تعلق رکھتے ہیں جس کو ہم کائنات کا نظام کہتے ہیں۔پھر آدم ایک ایسے دور میں داخل ہوتا ہے جہاں خدا کے روحانی نظام کا ہاتھ اس کے سر پر آتا ہے اس کی پشت پناہی کرتا ہے اور اس کی تخلیق نو میں ایک نیا نظام کار فرما ہو جاتا ہے اسے خلقاً آخر کے طور پر قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔پس دو قسم کی مخلوقات میں سے آدم یعنی اللہ کا خلیفہ گزرتا ہے ایک وہ تخلیق جس میں سب دوسرے بھی شامل ہیں لیکن یہ اس تخلیق کا انتہائی مقام ہے۔اس کا سب سے زیادہ عزت کا مرتبہ ہے وہ مرتبہ جس پر تخلیق کا نمائندہ اس لائق ٹھہرے کہ وہ خدا سے ہم کلام ہو یا خدا اس سے ہم کلام ہو اور خدا کی نمائندگی کر سکے۔دوسرا پہلو ہے اس کی تربیت اور دینی امور میں اس کی راہنمائی اور اُسے اس لائق ٹھہر انا کہ وہ خدا سے ہدایت پا کر لوگوں کا ہادی بن جائے۔پس امر واقعہ یہ ہے کہ مہدویت کا تعلق آغاز خلافت اللہ سے ہے۔دنیا میں کوئی خلیفہ نہیں بن سکتا جب تک وہ پہلے مہدی نہ ہو اور مہدی وہ جسے خدا خود ہدایت دے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا ہاتھ ہے جو پھر خلافت کی تخلیق میں حصہ لیتا ہے اور جب تک یہ ہاتھ اس تخلیق میں شامل نہ ہو جائے اس وقت تک کسی کو سجدہ کا حکم نہیں۔جب خدا کا نمائندہ ان دونوں ہاتھوں کی نمائندگی کرتا ہے، خدا کی ان دونوں طاقتوں کی نمائندگی