صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 752
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵۲ ۹۷- كتاب التوحيد عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَضَحِكَ رَسُولُ بن سعید نے کہا کہ فضیل بن عیاض نے اس حدیث اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُبًا میں یہ بڑھایا۔منصور سے مروی ہے کہ انہوں نے وَتَصْدِيقًا لَهُ۔ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ سے، عبیدہ نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے بوجہ تعجب کے اور اس لئے کہ اس کو سچا سمجھا۔أطرافه : ٤۸۱۱، ٧٤١٥، 7451، 7513۔٧٤١٥: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۷۴۱۵ عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاتٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بیان کیا کہ میں نے ابراہیم سے سنا۔انہوں نے کہا: يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ میں نے علقمہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت عبد الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِم إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابو القاسم ! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعِ وَالْأَرَضِينَ عَلَى اور درختوں اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات إِصْبَعِ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعِ کو ایک انگلی پر رکھے گا اور پھر فرمائے گا: میں وَالْخَلائِقَ عَلَى إِصْبَعِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔میں نے نبی صلی الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہے کہ آپ کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ دانت دکھائی دیئے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ اُن لوگوں نے اللہ (کی صفات) کا اندازہ اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے۔قدرة (الزمر: ٦٨)۔أطرافه: ٤٨١١، ٧٤١٤، ٧٤٥١، 7513۔تشریح :۔قَوْلُ اللهِ تَعَالَى لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَى: اللہ تعالی کا یہ فرمانا: جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بتایا تھا۔