صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 52
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۲ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔پر جو بدری صحابی ہیں اُن کے شراب پینے کی وجہ سے تعزیر عائد نہ کرتے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۳۸۲) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب المغازی، باب فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، جلد ۸، صفحه ۵۶) إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : یہ قرآن سات طرزوں پر نازل کیا گیا۔علامہ بدر الدین عینی سات قراءت کے متعلق لکھتے ہیں کہ على سَبْعَةِ أحْرُفٍ أَي: على سَبْعَة لُغَاتِ هِيَ أَفصح اللُّغَاتِ وَقيل: الْحَرْف الإعْرَاب، يُقَال: فلان يقرأ بحرف عَاهِم أَى بِالْوَجْهِ الَّذِي اخْتَارَهُ من الْإِعْرَاب، وقيل: توسعة وتسهيلًا لم يقصد به الحضر، وَفِي الْجُمْلَة قَالُوا: هَذِه القراءات السبع لَيْسَ كل وَاحِدَة مِنْهَا وَاحِدَة من تِلْكَ الشبع، بل يحتمل أن تكون كلها واحدة من اللغات السبعة۔اس کا معنی ہے سات لغات پر اور وہ تمام لغات میں زیادہ فصیح ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ حرف سے مراد اعراب ہے۔کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے عاصم کے حرف پر پڑھایا، یعنی امام عاصم نے جن اعراب کو اختیار کیا۔تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد توسیع اور تسہیل ہے اور سات حروف میں حصر نہیں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ سات قراءت ہیں اور ان میں سے ہر قراءت ان قراء توں میں سے نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتوں قراء تیں فصیحہ سے ہوں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۹۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیئے کہ قرآن کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔اس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی۔عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے۔کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یاز بر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھانہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اس لئے دوسری