صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 744 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 744

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۴۴ ۹۷ - كتاب التوحيد سے ہے۔جن سے اسلام انسان کو رہائی دینا چاہتا ہے۔چنانچہ مسئلہ عزل جس کا ذکر روایت میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے اس کے جواز سے متعلق فتویٰ پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مروجہ قوانین جنگ کے مطابق فتویٰ دیا ہے مگر بعد کو یہ طریق آپ کی طرف سے ممنوع قرار دیا گیا اور جنگی قیدیوں کی آزادی سے متعلق ایک معین ضابطہ قانون بنایا گیا ہے کہ فَأَمَّا مَنَا بَعْدُ وَ إِمَا فِدَاء (محمد: ۵) یعنی قید کرنے کے بعد جنگی قیدیوں سے احسان سے پیش آؤ اور حسب حالات بغیر تاوان لئے یا فدیہ لے کر انہیں آزاد کر دو اور اگر ان میں سے کسی قیدی کے پاس فدیہ کے لئے مال نہ ہو اور وہ بذریعہ معاہدہ (مکاتبت) آزادی حاصل کرنا چاہتا ہو تو اسے یہ سہولت دی جائے، جیسے فرمایا: فَكَاتِبُوهُم إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَ أتُوهُم مِّن مَّالِ اللهِ الَّذِى الكُمْ وَلَا تَكْرِهُوا فَتَيْتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ + ط تحصنا ( النور : ۳۴) اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ لونڈیاں جو بذریعہ مکاتبت یا فدیه یا از راہِ احسان مندی آزاد نہیں ہوئیں، وہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کا نکاح کیا جائے اور انہیں ایسی حالت میں نہ رہنے دو کہ غیر شریفانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔اس آیت سے ماقبل غلام اور لونڈیوں دونوں کے نکاح کرنے سے متعلق واضح حکم ان الفاظ میں ہے: وَ اَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اما يكُمُ اِنْ تَكُونُوا فُقَرَاء يُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ 0 ( النور : (۳۳) اور تمہارے درمیان جو بیوائیں ہیں ان کی بھی شادیاں کر اؤ اور اسی طرح جو تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے نیک چلن ہوں ان کی بھی شادی کراؤ۔اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دے گا اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا (اور) دائگی علم رکھنے والا ہے۔خلاصہ یہ کہ بعض قوانین اور تلقین وعظ و نصیحت اور عملی نمونہ سے اسلامی معاشرہ میں تدریجا ایسی فضا پیدا کی گئی ہے کہ غلامی کی ادنیٰ حالت جو ازمنہ قدیمہ سے ہر ملک اور قوم میں پائی جاتی تھی آخر تبدیل ہو گئی۔مذکورہ بالا احادیث کا تعلق ابتدائی حالات سے تھا۔“ ( صحیح بخاری ، کتاب العتق بَاب مَنْ مَلَكَ مِنَ العَرَبِ رَقِيقًا، جلد ۴ صفحه ۵۷۸)