صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 745 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 745

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۴۵ ۹۷ - كتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سے عزل کے متعلق پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کا کیا حکم ہے فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ ذَالِكَ الْوَادُ الخَفِی۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھی ایک واد خفی ہے۔یہ روایت مسلم نے سعید بن ابی ایوب سے اور مالک بن انس سے بھی نقل کی ہے اور ابو داؤد اور الترمذی اور النسائی نے یہ روایت ابی الا سود سے روایت کی ہے۔اس روایت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب عزل بھی و آد مخفی ہے تو یہ فعل بھی کسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے لیکن یہ بات روایت سے درست معلوم نہیں ہوتی۔اول تو اگر عزل منع ہے اس وجہ سے کہ عزل واد مخفی ہے تو پھر حاملہ سے جماع بھی منع ہونا چاہیئے مگر حمل کے ایام میں جماع کی حرمت کہیں سے ثابت نہیں حالانکہ وہ واد قطعی اور یقینی ہے۔دوسرے عزل کے جائز ہونے کے متعلق بھی احادیث آتی ہیں مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا بے شک کرو جس متنفس کو خدا نے پیدا کرنا ہے وہ تو اُسے بہر حال پیدا کر کے رہے گا (بخاری کتاب القدر باب كان امر الله قدراً مقدوراً) پس چونکہ عزل کا جواز بعض دوسری احادیث سے ثابت ہے اس لئے گو یہ حدیث بڑے بلند پایہ کی ہے مگر میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ بلاضرورت ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔اگر کوئی شخص بلاضرورت ایسا کرتا ہے تو وہ واد خفی سے کام لیتا ہے یعنی وہ شخص جس کی عزل سے غرض نسل انسانی کا انقطاع ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم اور گنہگار ہے ورنہ اور کئی صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں عزل ہو سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص کی بیوی بیمار ہے۔وہ دوسری شادی کی توفیق نہیں رکھتا لیکن خود اُس میں خدا نے قوائے شہوانیہ پیدا کئے ہیں۔دوسری طرف ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گیا تو اس کی جان کا خطرہ ہو گا ایسی حالت میں نہ صرف عزل جائز ہو گا بلکہ اگر حمل ہو جائے تو اُس کا نکلوا دینا بھی جائز ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے کہ ایسی حالت میں اگر کوئی عورت حمل نہیں نکلواتی اور وہ