صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 743 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 743

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۴۳ ۹۷ - كتاب التوحيد فوت نہ ہو۔پس بلاشبہ معقل اس بات کو چاہتی ہے کہ کمال الوہیت باری تعالیٰ کا یہی ہے کہ سب موجودات کا سلسلہ اسی کی قدرت تک منتہی ہو نہ یہ کہ صفت قدامت اور ہستی حقیقی کے بہت سے شریکوں میں بٹی ہوئی ہو اور قطع نظر ان سب دلائل اور براہین کے ہر ایک سلیم الطبع سمجھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کام بہ نسبت ادنی کام کے زیادہ تر کمال پر دلالت کرتا ہے پس جس صورت میں تالیف اجزاء عالم کمال الہی میں داخل ہے تو پھر پیدا کر نا عالم کا بغیر احتیاج اسباب کے جو کروڑہا درجہ زیادہ تر قدرت پر دلالت کرتا ہے کس قدر اعلیٰ کمال ہو گا۔پس صغری اس شکل کا بوجہ کامل ثابت ہوا۔اور ثبوت کبری کا یعنے اس قضیہ کا کہ ہر ایک کمال ذات باری کو حاصل ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض کمالات ذات باری کو حاصل نہیں تو اس صورت میں یہ سوال ہو گا کہ محرومی ان کمالات سے بخوشی خاطر ہے یا بہ مجبوری ہے۔اگر کہو کہ بخوشی خاطر ہے تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنے کمال میں نقص روا نہیں رکھتا اور نیز جبکہ یہ صفت قدیم سے خدا کی ذات سے قطعاً مفقود ہے تو خوشی خاطر کہاں رہی۔اور اگر کہو کہ مجبوری سے تو وجود کسی اور قاسر کا ماننا پڑا جس نے خدا کو مجبور کیا اور نفاذ اختیارات خدائی سے اس کو روکا یا یہ فرض کرنا پڑا کہ وہ قاسر اس کا اپنا ہی ضعف اور ناتوانی ہے کوئی خارجی قاسر نہیں۔بہر حال وہ مجبور ٹھہرا تو اس صورت میں وہ خدائی کے لائق نہ رہا۔پس بالضرورت اس سے ثابت ہوا کہ خداوند تعالی داغ مجبوری سے کہ بطلان الوہیت کو مستلزم ہے پاک اور منزہ ہے اور صفت کا ملہ خالقیت اور عدم سے پیدا کرنے کی اس کو حاصل ہے اور یہی مطلب تھا۔“ ( پرانی تحریریں، روحانی خزائن، جلد ۲، صفحه ۱۱ تا ۱۳) فَسَأَلُوا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ”اسلام کی ساری تعلیم کا منشاء اسی ایک مرکزی نقطہ کے ارد گرد چکر لگاتا ہے کہ انسان صفات الہیہ سے متصف ہو کر ان قیود سے آزاد ہو ؛ جن میں جکڑ کر وہ اپنی فطرت کے اعلیٰ تقاضے پورا کرنے سے محروم ہے۔اس مرکزی نقطہ تعلیم کی روشنی میں معنونہ مسائل کا جواب بالکل واضح ہے کہ ان حالات کا تعلق اونی حالات تمدن