صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 742
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲ کے ۹۷- كتاب التوحيد غ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ نَفْسٌ حضرت ابو سعید سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جان بھی پیدا کی جانی مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا۔ أطرافه: ۲۲۲۹، ٢٥٤٢ ، ٤١٣٨، ٥٢١٠، ٦٦٠٣۔ ہے اللہ اس کو ضرور ہی پیدا کرے گا۔ تشريح : هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ : ( حق یہی ہے کہ اللہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا موجد بھی ہے اور ہر چیز کو اس کی مناسب حال صورت دینے والا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے وہ باری ہے یعنے روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے وہ مصور ہے یعنی صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ عطا کرنے والا ہے کیونکہ اس کے لئے تمام اسماء حسنہ ثابت ہیں یعنے جمیع صفات کاملہ جو باعتبار کمال قدرت کے عقل تجویز کر سکتی ہے اس کی ذات میں جمع ہیں۔ لہذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔ کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلیٰ کمال ہے اور ترتیب مقدمات اس قیاس کی بصورت شکل اول کے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشا ایک کمال ہے اور سب کمالات ذات کامل واجب الوجود کو حاصل ہیں۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ نیست سے ہست کرنے کا کمال بھی ذات باری کو حاصل ہے۔ ثبوت مفہوم صغری کا یعنی اس بات کا کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنا ایک کمال ہے اس طرح پر ہوتا ہے ہے کہ کہ نقیض اس کی یعنے یہ امر کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنے میں عاجز ہونا جب تک باہر سے کوئی مادہ آکر معاون اور مددگار نہ ہو ایک بھاری نقصان ہے کیونکہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ مادہ موجودہ سب جابجا خرچ ہو گیا تو ساتھ ہی یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اب خدا پیدا کرنے سے قطعاً عاجز ہے حالانکہ ایسا نقص اس ذات غیر محدود اور قادر مطلق پر عائد کرنا گویا اس کی الوہیت سے انکار کرنا ہے۔ سوائے اس کے علم الہیات میں یہ مسئلہ بدلائل ثابت ہو چکا ہے کہ متجمع الکمالات ہو نا واجب الوجود کا تحقق الوہیت کے واسطے شرط ہے یعنی یہ لازم ہے کہ کوئی مرتبہ کمال کا مراتب ممکن التصور سے جو ذہن اور خیال میں گزر سکتا ہے اس ذات کامل سے