صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 740 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 740

صحیح البخاری جلد ۱۶ م کے ۹۷ - كتاب التوحيد مناسب دایہ نے اس گھر میں جھانکنا تک پسند نہ کیا، اس خیال سے کہ آمنہ کے یتیم بچے کے پالنے کا بدلہ کون دے گا۔جب سارا دن مکہ کے ہر گھر سے حلیمہ دهتکاری گئی تو اس نے خیال کیا کہ اگر میں بغیر بچے کے گئی تو بدنام ہو جاؤں گی۔چلو اگر کسی امیر گھرانے کا بچہ نہیں ملتا تو غریب گھرانہ کا یتیم محمد ہی ساتھ لیتی جاؤں۔(سیرۃ الحلبیہ جلد اول صفحہ (۹۶) گویا ساری دائیوں کارڈ کر وہ بچہ اس دایہ نے لیا جسے سب مکہ والوں نے رڈ کر دیا تھا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو صحف سابقہ میں آچکی ہے کہ ”جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔“ (متی باب ۲۱ آیت (۴۲) دایہ بھی معمار ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی بچہ کی پرورش کرتی اور اسے کھڑا ہونے کے قابل بناتی ہے۔غرض وہ تمام دائیوں کارڈ کیا ہوا بچہ حلیمہ کے گھر گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک صحت افزا مقام پر پرورش کا انتظام فرما دیا۔مگر خدا تعالیٰ کی غیرت دیکھو کہ جس یتیم بچے کے لے جانے سے حلیمہ ڈرتی تھی اسی یتیم بچے کو خدا تعالیٰ نے ایک دن اس کی قوم سے لڑوا دیا اور اس کو غالب کر دیا۔حلیمہ کی قوم کے بہت سے افراد غزوہ حنین میں قید ہوئے اور بہت سے جانور پکڑے گئے۔حلیمہ کی قوم کے مالدار فرعون حلیمہ کے غریب بچوں سے سفارش کی خواہش کرنے سے گھبراتے تھے لیکن آخر مجبور ہو کر ان کے پاس گئے۔اور جاکر کہا کہ قوم کی نظر تو تمہیں پر ہے۔جاؤ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی قوم کی سفارش کرو۔رسول کریم علی یہ نام دیر تک ان کا انتظار کرتے رہے تھے۔آخر مجبور ہو کر آپ نے حلیمہ کی قوم کے اموال غنیمت کو فوجیوں میں تقسیم کر دیا تھا۔صرف غلام رہنے دیئے تھے۔جب حلیمہ کی ایک بچی آپ کے پاس سفارش کیلئے آئی تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہارا بہت انتظار کیا۔آخر تنگ آکر مال تقسیم کر دیا۔اب تم خود ہی پسند کر لو۔آیا میں مال واپس لے کر تم کو دے دوں یا قیدی تم کو دے دوں۔اس نے قوم سے مشورہ کیا اور کہا: ہمیں قیدی چاہئیں مال نہیں چاہیئے۔رسول کریم ملا ہی ہم نے لشکر اسلام کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔انہوں نے کہا: