صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 739
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۹ ۹۷ - كتاب التوحيد اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تُو میری حفاظت میں ہے اور میں تیری عزت کرتا ہوں (اقرب) اسی طرح فُلان بعينی کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ احْفَظُهُ وَأَرَاعِيْهِ کہ میں اُس کی حفاظت کرتا ہوں اور اُس کی رعایت ملحوظ رکھتا ہوں۔(اقرب) مفردات امام راغب ” میں بھی لکھا ہے کہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا کے یہ معنی ہیں کہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِحِفاظتی یعنی تو میری حفاظت میں کشتی بنا اور اسی سے عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ عَيْنُ اللهِ عَلَيْكَ اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تُو خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔(مفردات)“ (تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۱۶۰) نیز فرمایا: لتُصْنَعَ - الصُّنْعُ کے معنے ہیں إجَادَةُ الفعل۔کسی کام کو اچھی طرح سے کرنا (اقرب) اور علی عینی کا محاورہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی کی حفاظت اور شفقت مطلوب ہو۔(اقرب) پس لِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنی کے معنے ہوں گے تاکہ تو ہماری خاص شفقت اور رحمت میں پرورش پائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی ہے تم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کے واقعہ سے بھی ایک مشابہت حاصل ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ موسیٰ کو دودھ پلوانے کے لئے اس کی بہن نے کوشش کی لیکن رسول کریم ملی کی کمی کو دودھ پلانے والی عورت کو خدا تعالیٰ خود پکڑ کر آپ کے پاس لے آیا۔چنانچہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ مکہ کے اردگرد کے گاؤں کی عورتیں ایک خاص موسم میں مکے میں جمع ہو جاتی تھیں تا کہ امیروں کے بچے دودھ پلانے کے لئے اپنے ساتھ لے جائیں۔جب رسول کریم ملی اینم چند ماہ کے ہو گئے اور وہ وقت آیا جب عورتیں باہر سے آتی تھیں تو باہر سے کچھ عورتیں آئیں جن میں آپ کی ہونے والی دائی حلیمہ بھی تھی۔حلیمہ کا خاندان غریب تھا۔اس لئے جن امیر گھروں میں بھی وہ گئی انہوں نے اپنا بچہ اسے دینے سے انکار کر دیا، یہ سمجھ کر کہ یہ غریب عورت بچے کو اچھی طرح سے پال نہیں سکے گی۔حلیمہ سارا دن مکہ کے گھروں میں پھرتی رہی اور رڈ ہوتی رہی اور میرے آقا کی ماں بیوہ آمنہ اپنے گھر میں کسی مناسب دایہ کا انتظار کرتی رہی۔لیکن کسی