صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 738
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۳۸ ۹۷- كتاب التوحيد ٧٤٠٧ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۴۰۷: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، قَالَ ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر) سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَيْكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم سے پوشیدہ نہیں کہ اللہ کانا نہیں اور آپ نے اپنے ہاتھ سے إِلَى عَيْنِهِ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا، فرمایا: اور مسیح دجال عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ۔ داہنی آنکھ سے کانا ہو گا۔ ایسا معلوم ہو گا جیسے اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے۔ أطرافه: ٣٠٥٧ ، ۳۳۳۷، ۳۴۳۹ ، ٤٤۰۲، ٦١٧٥، ۷۱۲۳، ۷۱۲۷۔ ٧٤٠٨: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۷۴۰۸: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہمیں خبر دی۔ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَعَثَ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے اللَّهُ مِنْ نَّبِي إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الْأَعْوَرَ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے کوئی نبی بھی ایسا الْكَذَابَ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ نہیں بھیجا جس نے جھوٹے کانے سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو۔ وہ کانا ہو گا اور تمہارارت کانا نہیں، اس بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ۔ طرفه : ۷۱۳۱ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا۔ تشريح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَ لِتُصْنَعَ عَلَى عين: اللہ تعالی کافرمانا تاکہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھے۔ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عین کے معنے عربی زبان میں جہاں آنکھ کے ہیں وہاں اس کے ایک معنے حفاظت کے بھی ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں جب یہ کہا جائے کہ انتَ عَلی عَيْن تو