صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 737
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۷ ۹۷ - كتاب التوحيد ہے۔تیسری قسم کی سزا کا ذکر الفاظ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَ يُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (الأنعام:۶۶) سے فرمایا ہے۔عنوان باب میں يَلْبِسُ کے معنی باب افعال کے مفہوم میں ہیں یعنی ایک دوسرے کے ساتھ الجھانا، گھتم گتھا کر دینا۔یہ شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔شیعا سے مراد ہے کہ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر پل پڑو۔طبری نے حضرت ابن عباس سے شِيَعًا کا مفہوم الْأَهْوَاء الْمُختلفة نقل کیا ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۹) یعنی مختلف خواہشات نفس میں تمہیں مبتلا کر کے آپس میں گلو گیر کر دے۔اس سے مراد خانہ جنگی ہے جو بہتوں کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہوتی ہے۔اس باب کے تحت جو روایت نقل کی گئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ان تین قسم کے عذابوں میں سے آسمانی عذاب اور زمینی عذاب ہولناک ہیں۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعُوذُ بِوَجْهِكَ کے الفاظ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی ہے اور تفرقہ و خانہ جنگی کے عذاب کو باقی عذابوں کی نسبت آسان تر بتایا ہے۔مگر یہ تینوں سزائیں ہی جب شدت اختیار کر لیتی ہیں تو نا قابل برداشت ہو جاتی ہیں۔امام ابن حجر نے امام مسلم، امام احمد بن حنبل، ترمذی، نسائی، طبری اور ابن ابی حاتم وغیرہ کی متعدد روایتیں معنونہ آیت کے تعلق میں نقل کی ہیں کہ فوقانی عذاب سے با فراط باراں اور رحم آگ بگولے و طوفان اور قحط وغیرہ مراد ہیں اسی طرح اس سے آئمة السوء برے امام و سردار بھی ہو سکتے ہیں اور تحتانی عذاب سے جس طرح زلزلے وغیرہ مراد ہیں خُداه السوء (یعنی بڑے ملازم) بھی ہو سکتے ہیں۔“ ( صحیح بخاری، کتاب التفسير سورة الأنعام ، باب قُلْ هُوَ القَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ جلد ۱۰ صفحه ۲۸۶،۲۸۵) بَاب ۱۷ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي (طه: ٤٠) تُغَذَّى اللہ تعالی کا فرمانا: تاکہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھے وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا اور اللہ جل ذکرہ کا یہ فرمانا: وہ ہماری آنکھوں کے (القمر: ١٥) سامنے (ہماری نگرانی میں ) چلتی تھی۔