صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 736
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۶ ۹۷ - كتاب التوحيد یعنی تم مجھے دیکھتے ہو تو یہ خیال کرتے ہو کہ یہ مرزا غلام احمد ہے۔اگر ہم نے اس پر حملہ کر لیا تو کیا ہو حالانکہ اگر تم حملہ کرتے ہو تو تمہاراحملہ مرزا غلام احمد پر نہیں بلکہ خدا پر ہوتا ہے کیونکہ خدا نے میرے وجود کو اپنا لیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ القصص ، زیر آیت وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ ، جلدی صفحه ۵۶۷،۵۶۶) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں تین قسم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔ایک قسم آسمانی جو ملائکتہ اللہ کے خالص تصرف سے نازل ہوتی ہے اور انسان اس میں بے بس ہوتا ہے۔اس کی روک تھام کے لیے نہ اسباب اختیار کر سکتا ہے نہ مہلت ملتی ہے کہ ان اسباب کا خیال ہی کر سکے۔اللہ تعالیٰ سزا سے متعلق اپنی سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔جب وہ ترقی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے آباء واجداد کو بھی دکھ سکھ پہنچ چکے ہیں۔ہمیں پہنچے تو کیا ہے۔اس طرح جب وہ نڈر ہو جاتے ہیں فَأَخَذْ نَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الأعراف: ۹۶) تو ہم انہیں اچانک گرفت میں لے لیتے ہیں بحالیکہ اُنہیں شعور تک نہیں ہوتا کہ کوئی عذاب آنے والا ہے أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَايِمُونَ (الأعراف: ۹۸) ہمارا عذاب انہیں رات کو آئے اور وہ سوئے ہوں۔آن يَأْتِيَهُمُ بَأْسُنَا ضُحَى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (الأعراف: ۹۹) انہیں دو پہر کو ہمارا عذاب آئے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں۔غرض برو ایک قسم آسمانی سزا کی ہے جس کو معنونہ آیت میں عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور دوسری قسم عذاب مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمُ (الأنعام : ۶۲) کے الفاظ سے بیان فرمائی ہے۔تمہارے پاؤں کے نیچے سے، جیسے سیلاب و زلازل وغیرہ یا ماتحت لوگوں کے ذریعہ سے، جیسے رعیت کی بغاوت۔زار روس کا حال زار ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور موجودہ زمانے میں آئے دن اس قسم کی سزا کا مشاہدہ بار بار کرایا جا رہا ہے۔ساری قوم بالاتفاق آگ بگولے کی طرح اٹھتی اور قصر بریں کے اندر آغوش عیش و عشرت میں کروٹیں لینے والے متنعمین کو واصل جہنم کر دیتی