صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 735
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۵ ۹۷ - كتاب التوحيد ہوتی ہے ، وہ ہلاک ہوتی ہے اگر یہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے تو دنیا کی کوئی چیز تغیر پذیر نہیں ہو سکتی تھی۔مگر اس کا تغیر پذیر ہونا بتاتا ہے کہ یہ چیزیں خدا کا حصہ نہیں ورنہ اگر کسی چیز کے ایک حصہ میں تغیر ہو سکتا ہے۔تو پھر گل میں بھی تغیر تسلیم کرنا پڑے گا۔الا وجهَه میں بتایا کہ صرف وہی بچیں گے جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہو گی۔یہ استثناء اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ کُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ سے یہ شبہ پڑ سکتا تھا کہ شائد جنت بھی ایک دن فنا ہو جائے گی۔یاوہ روحانی علوم جو اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کے ذریعہ دنیا میں نازل کئے ہیں وہ بھی تباہ ہو جائیں گے یا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے بھی ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اِلَّا وَجْهَة کے الفاظ بڑھا دیئے۔اور بتا دیا کہ کچھ چیزیں اس ہلاکت سے محفوظ بھی رہیں گی۔مگر وہ وہی ہوں گی جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔ور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کے لئے موت لازمی ہے اور انسانوں میں سے بھی کوئی اس موت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ہاں وہ وہ لوگ جو وجہ اللہ میں محو ہو کر ایک نئی زندگی حاصل کر لیتے ہیں وہ جسمانی موت سے تو نہیں بچ سکتے لیکن ان کی روحیں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھی جائیں گی۔کیونکہ ان کی ارواح کا خد اتعالیٰ کی ذات سے اتصال ہو جاتا ہے۔اور دنیا میں ہی خدا انما وجود بن جاتے ہیں۔جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ بندہ میرے قرب میں اتنا بڑھتا ہے کہ آخر میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے۔اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔اور اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔جو اس پر حملہ کرتا ہے وہ اس پر نہیں بلکہ خدا پر حملہ کرتا ہے۔اور جو اس کو عزت دیتا ہے، وہ اس کو نہیں بلکہ خدا کو عزت دیتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے میرے بدخواہ کرنا، ہوش کر کے مجھ پہ وار