صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 51 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 51

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۱ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔پر مبنی ہے اور جنہوں نے اپنی مختلف قسم کی قربانیوں سے اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ہے۔حضرت ابن دخشن بدر وغیرہ میں بالفعل شریک ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سر ٹیفکیٹ پانے کا ایک جائز حق رکھتے تھے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شایاں تھا کہ وہ اپنے کسی صحابی کے متعلق اُس کی قربانی کو دیکھ کر یہ فتویٰ دیتے کہ یہ اُن لوگوں میں سے ہے جنھوں نے کلمہ شہادت کا اقرار اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا ہے اور جن پر آگ حرام ہو چکی ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب الصلوۃ، باب المساجد في البيوت، جلد اول صفحه ۵۲۴،۵۲۳) اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ أَوْ جَبْتُ لَكُمُ الْجَنَّةَ : جو تم چاہو کرو۔میں تمہارے لئے جنت لازم کر چکا حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ سے متعلق فرماتے ہیں: ” حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے جو غلطی سرزد ہوئی وہ بھی اسی قسم کی تھی۔۔۔ان کی اس غلطی پر بعض صحابہ کو شدید غصہ آیا اور انہیں قتل کر دینے پر وہ آمادہ ہو گئے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حقیقت بین ان کے قلبی اخلاص تک پہنچی اور آپ نے ان کا عذر قبول فرمالیا۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الجهاد و السیر، باب الجاسوس، جلد ۵، صفحه ۳۵۳) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی کمزوری قابل عفو مجھی گئی کیونکہ وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے اور اس جنگ میں صرف وہی شریک ہوا جو انتہائی قربانی کی روح رکھنے والا تھا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ بدری صحابیوں کا درجہ اتنابڑا ہے کہ ان کی کمزوریاں بھی قابل عفو ہیں۔لَعَلَّ اللہ ا لع کے فقرہ میں لعل کا استعمال شاید کے مفہوم میں نہیں۔یہ انداز بیان وثوق، امید اور پسندیدگی کے معانی کا جامع ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی نیت درست ہے۔ان کا اندازِ فکر بشریت کی عام کمزوری تھی جو اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ کی استثناء میں داخل ہے۔اِعْمَلُوا مَا شِئْتُم سے یہ مراد نہیں کہ بدری صحابہ کو اجازت ہو گئی تھی کہ وہ خلاف شریعت افعال کا ارتکاب کر لیں۔اگر یہ مفہوم ہوتا تو حضرت عمرؓ، قدامہ