صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 734
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۴ ۹۷ - كتاب التوحيد اس آیت میں کہ كُلٌّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ہے ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہر ادی۔پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کر جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی رُوحانی صفات میں تغیرات پیدا ہو کر رُوح پر موت آجاتی ہے مگر جو لوگ وجہ اللہ میں محو ہو کر مرتے ہیں وہ باعث اس اتصال کے جو اُن کو حضرت عزت سے ہو جاتا ہے دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور اُن کی زندگی خدا کی زندگی کا ایک ظل ہوتا ہے اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کے لئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے مگر وہ نہ مردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک خص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بد حواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اور زمین و آسمان اُس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، صفحه ۱۶۶،۱۶۵) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چہرہ سے مراد ظہورِ صفات ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ خد اتعالیٰ کا کوئی حقیقی چہرہ ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ گندی اور پاک دونوں چیزوں سے خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہو رہا ہے۔صرف ظہور مختلف قسم کا ہے۔ہاں انسان ایک وقت میں صرف ایک ہی صفت کو نمایاں طور پر ظاہر کر سکتا ہے یا چند صفات ظاہر کر سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں غضب اور رحم اور باقی سب صفات ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔پس یہ کوئی اعتراض نہیں کہ ایک ہی وقت میں اس کا چہرہ مختلف آثار کیونکر ظاہر کر رہا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلدے صفحہ ۵۶۸،۵۶۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دنیا کی ہر چیز بلکہ ہر مزعومہ معبود بھی ہلاک ہونے والا ہے اور یہ ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ کوئی اور وجود اسے قائم رکھ رہا ہے۔اس آیت میں ضمنی طور پر وحدت وجود والوں کا بھی رڈ کر دیا گیا ہے۔یہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ دنیا میں خدا کے سوا اور کچھ نہیں جو کچھ نظر آرہا ہے یہ خدا تعالیٰ کا ہی جلوہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر وہ چیز جو پیدا