صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 731 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 731

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۱ ۹۷ - كتاب التوحيد زبان سے ثابت کیا ہے یا جن امور سے اللہ تعالیٰ نے اجمال کی راہ سے اپنی تنزیہہ بیان کی ہے ان سب پر ایمان لانے پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۴۶۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اور یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو صحیح طور پر مانا اور اس میں زیادت یا کمی نہ کرنا، یہ وہ عدل ہے جو انسان اپنے مالک حقیقی کے حق میں بجالاتا ہے۔یا یوں سمجھ لو کہ حق وہ چیز ہے کہ ہمیشہ دو متقابل باطلوں کے وسط میں ہوتا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ عین موقع کا التزام ہمیشہ انسان کو وسط میں رکھتا ہے اور خداشناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا دیکھتا، سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے۔اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کیلئے یہ بھی فرماتا ہے: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲) فَلَا تَضْرِبُوا لِلهِ الْأَمْقَالَ (النحل: ۷۵) یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔سو خدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۷،۳۷۶) أَنَا عِندَ ظَنِ عَبْدِی پی: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب تک انسان ادنیٰ حالت میں ہوتا ہے اس کے خیالات بھی ادنی ہی ہوتے ہیں اور جس قدر معرفت میں گرا ہوا ہوتا ہے اسی قدر محبت میں کمی ہوتی ہے۔معرفت سے حسن ظن پیدا ہوتا ہے۔ہر شخص میں محبت اپنے ظن کی نسبت سے ہوتی ہے۔أنا عند ظن عَبْدِی ہی سے یہی تعلیم ملتی ہے۔صادق عاشق جو ہو تا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ تو وفاداری کرنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان صدق دکھلاوے اور اس پر ظن نیک رکھے کہ تا وہ بھی وفا دکھلائے مگر یہ لوگ کب اس حقیقت کو سمجھ سکتے