صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 732 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 732

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷ - كتاب التوحيد ہیں۔یہ تو اپنی ہوا و ہوس کے بتوں کے آگے جھکے رہتے ہیں اور ان کو نظر دنیا تک ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کو کریم و رحیم نہیں سمجھتے۔اس کے وعدوں پر ذرہ ایمان نہیں رکھتے۔اگر اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتے کہ وہ کریم و رحیم ہے تو وہ بھی اُن پر رحمت اور وفا کے ثبوت نازل کرتا۔شر بدظنی سے پیدا ہوتا ہے۔قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بد ظنی مت کرو۔اللہ تعالیٰ کا ساتھ نہ چھوڑو۔اسی سے مددمانگو۔اللہ تعالٰی ہر میدان میں مومن کی مدد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں میدان میں تیرے ساتھ ہوں وہ اس کے لیے ایک فرقان پیدا کر دیتا ہے جو اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرتا وہ بدظنی کرتا ہے۔جو خدا تعالیٰ سے نیک ظن کرتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے بدظنی کرتا ہے، وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے لیے کوئی دوسرا معبود بنائے اور شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جب انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ خدا کریم و رحیم ہے اور اس بات پر ایمان صدق دل سے لاتا ہے کہ اس کے وعدے ملنے کے نہیں تو وہ اس پر جان فدا کرتا ہے اور در پردہ خدا تعالیٰ سے عشق رکھتا ہے۔ایسا انسان خدا تعالیٰ کا چہرہ اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔خدا تعالیٰ طرح طرح سے اس کی مدد کرتا ہے اور اپنے انعامات اس پر نازل کرتا ہے اور اس کو تسلی بخشتا ہے اور محبت اور وفا کا چہرہ دکھاتا ہے لیکن بے وفا غدار ہمیشہ محروم رہتا ہے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه ۳۶،۳۵) بَاب ١٦ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص: ۸۹) اللہ عزو جل کا یہ فرمانا: ہر ایک چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے جس کی طرف اس (اللہ) کی توجہ ہو ٧٤٠٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۷۴۰۶: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر وسے ، عمرو