صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 730 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 730

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۳۰ ۹۷۔کتاب التوحيد تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بھری مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي بھری مجلس میں یاد کرتا ہوں جو اس مجلس سے بہتر ہوتی ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً۔أطرافه: ٧٥٠٥، ٧٥٣٦، ٧٥٣٧۔ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو تا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک باع اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔ریح : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَيُحَذِّرُكُمُ الله نفسه اللہ تعالی کایہ فرمانان او الہ میں اپنے آپ سے خبر دار کرتا ہے۔علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ معنونہ آیات و احادیث سے اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ نفس کے استعمال کا ثبوت دیا گیا ہے۔امام راغب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نفس سے مراد اس کی ذات ہی ہے اور اگر مضاف، مضاف الیہ کی وجہ سے یہ خیال آئے کہ دونوں میں مغایرت ہے تو معنی کے لحاظ سے ایسا کچھ بھی نہیں۔کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی واحد ہے اور ہر لحاظ سے تثنیہ ہونے سے پاک ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ لفظ نفس کے عربی کلام میں متعدد معانی ہیں۔ان میں سے ایک معنی ہیں حقیقت، جیسا کہ لفظ نفس الامر“ کہنے میں یہ معنی مراد ہوتے ہیں۔یہاں امر کا کوئی سانس لینے والا نفس تو مراد نہیں ہوتا۔صاحب المطالع علامہ ابن قرقول کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے آیت کریمہ ولا أعلم ما في نفسك کے معنی بیان کرتے ہوئے تین اقوال درج کیے ہیں۔ایک یہ کہ میں تیری ذات کو نہیں جانتا۔دوسرا یہ کہ میں تیرے غیب کو نہیں جانتا اور تیسرا یہ کہ جو کچھ بھی تیرے پاس ہے مجھے اس کا علم نہیں۔اس (تیسرے) قول کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ میں تیرے معلوم کو ، یا تیرے ارادہ کو، یا تیرے بھید کو، یا جو کچھ بھی تیرا ہے اُسے نہیں جانتا۔(فتح الباری، جزء۱۳ صفحہ ۴۷۰) بعض علماء اللہ تعالیٰ کی ذات اور نفس کے بیان میں ناحق طریق پر بحث کرتے ہوئے اس کی دیگر مخلوقات سے مشابہت و مخالفت ڈھونڈنے میں سرگرداں رہے ہیں۔علامہ ابن حجر اُن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ درست طریق یہ ہے کہ ان مباحث کے بیان میں مثالوں سے گریز کرنا چاہیئے اور ایسے تمام امور میں حقیقت کو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی تفویض کر دینا چاہیئے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں واجب کیا ہے یا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی