صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 728
صحيح البخاری جلد ١٦ ۷۲۸ ۹۷- كتاب التوحيد تشريح ۔ مَا يُذْكَرُ فِي الذَّاتِ وَالنُّعُوتِ وَأَسَافِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: ذات اور صفات اور اللہ عز و جل کے ناموں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے۔ ابن امام راغب لفظ اللہ ات کے معنی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لفظ دو سے مؤنث کا صیغہ ہے اور اس کلمہ کے توصل اجناس وانواع کے ناموں کو متصف کیا جاتا ہے۔ نیز استعارہ یہ لفظ کسی معین چیز کے لیے بمعنی نفس بھی آتا ہے۔ قاضی عیاض بیان کرتے ہیں کہ ذات الشيء کہنے سے اس چیز کا نفس اور اس کی حقیقت مراد ہوتی ہے۔ علامہ حجر لکھتے ہیں کہ اس بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام بخاری کا یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق لفظ الذات کا استعمال متکلمین کے طریق پر نفس کے معنی میں ہی ہے۔ لفظ النعوت کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ نعت کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں صفت۔ اور الأسامي لفظ اسم کی جمع ہے۔ اس کی جمع اسماء بھی آتی ہے۔ علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء تین طرح کے ہیں ایک تو وہ جو اس کی ذات کی طرف راجع ہیں جیسے (اسم الہی) ”اللہ“ ہے۔ دوسرے وہ جو اس کی کسی صفت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اس کے وجود کے ساتھ ہی قائم ہے، جیسے (صفت الہی) آتی ہے۔ تیسرے وہ جو اس کے کسی فعل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے (صفت (صفت ! الہی ) ” الخالق ہے۔ ه فتح الباری جزء ۱۳ صفحه ۴۶۶، ۴۶۷) باب ١٥ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ (آل عمران: ۲۹) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبر دار کرتا ہے وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو کچھ میرے جی میں ہے وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ (المائدۃ: ۱۱۷) تو جانتا ہے اور جو کچھ تیرے دل میں ہے میں نہیں جانتا۔ ٧٤٠٣ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۷۴۰۳: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ سے بیان کیا۔ اعمش نے شقیق سے شقیق نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عبد الله - اسے، حضرت عبداللہ نے نبی صلی اللہ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں اسی لئے فحش