صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 727 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 727

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۲۷ ۹۷۔کتاب التوحيد ٧٤٠٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۴۰۲: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَمْرُو نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ که عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے الثَّقَفِيُّ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ جو بنو زہرہ کے حلیف اور حضرت ابوہریرہ کے ساتھیوں میں سے تھے، مجھے خبر دی کہ حضرت أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ابوہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دس آدمیوں کو بھیجا۔ان میں سے حضرت خبیب وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنْهُمْ جُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ۔انصاری بھی تھے۔اور عبید اللہ بن عیاض نے فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے اُن کو خبر دی کہ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ جب وہ (حضرت خبیب کے قتل پر) متفق ہو گئے اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ تو حضرت خبیب نے اس سے ایک استر اعاریہ لیا فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ کہ اس سے صفائی کریں۔جب وہ حرم سے باہر قَالَ حُبَيْبُ الْأَنْصَارِيُّ چلے گئے تاکہ انکو ماریں تو حضرت خبیب انصاری بِهَا نے یہ شعر پڑھے : وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلْ مُسْلِمًا میں پروا نہیں کرتا کہ جب میں مسلمان ہونے کی عَلَى أَيْ شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي حالت میں مارا جارہا ہوں تو اللہ کی خاطر میں کس وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَأْ کروٹ پچھاڑا جاؤں اور یہ موت اس معبود کی يُبَارِكُ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُمَرَّع ذات کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے ٹکڑے ہوئے جسم کے حصوں کو برکت دے۔فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ (عقبہ بن حارث نے ان کو قتل کیا اور نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ان کے متعلق اسی دن خبر دے دی جس دن وہ لوگ شہید ہوئے۔يَوْمَ أُصِيبُوا۔أطرافه ٣٠٤٥ ٣٩٨٩، ٤٠٨٦-