صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 726 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 726

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۷۲۶ ۹۷- كتاب التوحيد جب کبھی دعا کی ضرورت ہو تو دعا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کر لینی چاہئے۔ پس جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کر کے کچھ مانگتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا یہ محتاج بندہ جو کچھ مانگتا ہے وہ اسے دیا جائے۔ یہ میرا بندہ جو میری صفات بیان کر رہا ہے میں اس پر اپنی صفات ظاہر بھی کر دیتا ہوں تا اس کو عملی طور پر معلوم ہو جائے کہ جو کچھ وہ میرے متعلق کہتا ہے وہ سب درست ہے۔ تو حمد خدا تعالیٰ کی سب صفات کو جوش میں لے آتی ہے اور سب صفات جمع ہو کر ایک طرف جھک جاتی ہیں تا کہ اس بندہ کا کام کر دیں۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۸ جولائی ۱۹۱۶ء، جلد ۵ صفحه ۱۹۵،۱۹۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دعا سکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے۔ اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحه : ۲ تا ۴) اس میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات کو جو اسم الصفات ہیں بیان فرمایا ہے۔ اس قدر صفات اللہ کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے تو خواہ مخواہ رُوح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دُعا کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے۔“ لملفوظات جلد ۴ صفحه ۲۰۶،۲۰۵) بَاب ١٤ : مَا يُذْكَرُ فِي الذَّاتِ وَالنُّعُوتِ وَأَسَامِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذات اور صفات اور اللہ عزوجل کے ناموں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وَقَالَ خُبَيْبٌ وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ اور حضرت خبیب نے کہا: یہ موت اللہ کی ذات فَذَكَرَ الدَّاتَ بِاسْمِهِ تَعَالَى۔ کی خاطر ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام میں ذات کا ذکر کیا۔