صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 720
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۲۰ ۹۷ - كتاب التوحيد صحف میں بھی فرد افردایہ ساری صفات بیان نہیں ہوئیں ہاں بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کی کتابوں کو جمع کیا جائے تو پھر ان میں سے بہت سی صفات کا ذکر ان میں آجاتا ہے مگر ساری صفات کا ذکر پھر بھی نہیں آتا۔درحقیقت مسلمانوں میں جو عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یہ عقیدہ ان یہودی روایات سے ہی وابستہ ہے جو انہوں نے تورات سے صفات الہیہ اخذ کر کے بنائی ہیں ورنہ قرآن کریم میں ننانوے سے بہت زیادہ نام مذکور ہیں جن میں سے ایک سو چار نام تو میں نے اوپر بیان کر دیئے ہیں اور ابھی بہت سے باقی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن کا انسان کے ساتھ تعلق نہیں ان کے قرآن کریم میں بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اور یقینا وہ قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئیں۔پس کسی خاص تعداد میں خدا تعالیٰ کے ناموں کو محمد دو کرنا درست نہیں اور اگر اسلامی لٹریچر میں اس قسم کا کوئی ذکر پایا جاتا ہے تو وہ صرف یہودی دعوے کے تقابل کے لئے ہے حقیقت محض کے اظہار کے لئے نہیں۔ویدوں کو بھی میں نے دیکھا ہے ان میں بھی بہت کم صفات خدا تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں اور یہی حال ژند اوستا کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن کریم کامل کتاب ہے اور روحانیت کی تکمیل کے لئے آخری زینہ ہے اس لئے اس میں وہ صفات بھی آگئی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان کیں اور ان کے علاوہ کئی زائد صفات بھی اس میں بیان کی گئی ہیں۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۷۷ تا ۴۸۶) بَاب ۱۳: السُّؤَالُ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَالِاسْتِعَاذَةُ بِهَا اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ذریعہ مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا ۷۳۹۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۷۳۹۳: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔مالک نے سعید بن ابی أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سعيد مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ سے، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے