صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 719
صحيح البخاری جلد ١٦ ۷۱۹ ۹۷- كتاب التوحيد الْغَنِي الْمَانِعُ روکنے والا ہے تمام حوائج سے مستغنی ہے المغنی غنی کرنے والا ہے الضَّار شریر کو اُسکے کام کی سزا دیتا ہے النَّافِعُ فائدہ پہنچانے والا ہے النُّورُ روشنی بخشنے والا ہے الْهَادِي ہدایت دینے والا ہے الْبَدِيعُ ایجاد کرنے والا ہے الباقي الْوَارِثُ سب کا وارث ہے باقی رہنے والا ہے الرشيد نیک راہ بتانے والا ہے ذُو الْعَرْشِ الْمُتَكَلِّمُ کلام کرنے والا الكافي سب حاجتوں کو پورا کرنے والا الصَّبُورُ بہت صبر کرنے والا ذُو الوَقارِ ہر بات دلیل اور غرض کے مطابق کر نیوالا الشافي شفا دینے والا یہ ایک سو چار موٹے موٹے نام ہیں جو قرآن شریف سے اخذ کئے گئے ہیں، ان میں سے اکثر تو انہی الفاظ میں قرآن کریم میں بیان ہیں لیکن بعض ایسے ہیں جو قرآن کریم کی آیتوں سے اخذ کر کے لکھے گئے ہیں ان ناموں پر غور کر کے اس روحانی نظام کا ڈھانچہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے۔ یہ صفات موٹے طور پر تین حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ اول وہ صفات جو صرف اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی کی ذات ذات کے کے ساتھ ساتھ تعلق ع رکھتی ہیں مخلوق کا اُن کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ مثلاً الحی زندہ رہنے والا ہے۔ القادر قدرت اور اختیار رکھنے والا ہے۔ الماجد بزرگی رکھنے والا وغیرہ وغیرہ۔ دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جو مخلوق کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے نسبتی تعلق پر دلالت کرتی ہیں مثلا الخالق۔ المالک وغیرہ وغیرہ۔ تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جو بالا رادہ ہستیوں کے اچھے اور بُرے اعمال کے متعلق ؟ خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً رحیم ہے مُلِكِ يَوْمِ الدین ہے عفو ہے رؤوف ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ صفات جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جن کا ایک حصہ میں نے اوپر درج کیا ہے انجیل میں تو ان کا بہت ہی کم ذکر ہے۔ تورات اور دوسرے انبیاء کے