صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 716 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 716

صحیح البخاری جلد ۱۹ 214 ۹۷ - كتاب التوحيد اُس کے یقینی جنتی ہونے میں شبہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔66 ( تفسیر کبیر، سورة الفجر، زير آيت والشفع والوتر ، جلد ۸، صفحه ۴۸۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خد اتعالیٰ وراء الور ا ہستی ہے اُس کا حسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ اُس کا حُسن انسان کے سامنے کئی واسطوں سے آتا ہے۔اگر اس کے حسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ وہ نقش في التحجر کی طرح ہو جائے گا اور معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آجائے گی۔خدا تعالیٰ کے جو ننانوے نام بتائے جاتے ہیں وہ دراصل یہی چیز ہے۔خدا تعالیٰ کے صرف نانوے نام نہیں بلکہ اُس کے نام نانوے ہزار میں بھی ختم نہیں ہوتے۔عد دمحض تقریبی ہے۔یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں۔صوفیاء یا گزشتہ انبیاء نے ذہن نشین کرنے کے لیے یہ اصطلاح وضع کر دی کیونکہ ان ناموں کا ذکر یہودیوں کی کتابوں میں بھی آتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اگر موٹے موٹے نام بھی گنے جائیں تو وہ بھی نانوے سے بڑھ جاتے ہیں۔پھر نام در نام آجاتے ہیں۔پھر ان کی تشریح آجاتی ہے اور اس طرح یہ نام کئی ہزار کیا کئی لاکھ تک جا پہنچتے ہیں۔“ نیز آپ نے فرمایا: (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۰ / اپریل ۱۹۵۱ء، جلد ۳۲ صفحه ۷۷) قرآن کریم کی پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کس طرح عمل کرتی ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں چار صفات کے ارد گر د گھومتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں۔(1) وہ رب العلمین ہے یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کر کے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اُسے اعلیٰ حالت تک پہنچاتا ہے۔(۲) وہ رحمن ہے یعنی تمام ایسے ذرائع بغیر مخلوق کی کسی کوشش اور بغیر اُس کے استحقاق کے مہیا فرماتا ہے جن کے بغیر مخلوق کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔