صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 716
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۱۶ اُس کے یقینی جنتی ہونے میں شبہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔ " ۹۷- كتاب التوحيد تفسير كبير ، سورة الفجر ، زير آيت والشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ، جلد ۸، صفحہ ۴۸۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خداتعالی وراء الورا ہستی ہے اُس کا حُسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ اُس کا حُسن انسان کے سامنے کئی واسطوں سے آتا ہے۔ اگر اس کے حُسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ وہ نقش في الحجر کی طرح ہو جائے گا اور معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آجائے گی۔ خدا تعالیٰ کے جو ننانوے نام بتائے جاتے ہیں وہ دراصل یہی چیز ہے۔ خدا تعالیٰ کے صرف ننانوے نام نہیں بلکہ اُس کے نام ننانوے ہزار میں بھی ختم نہیں ہوتے۔ عدد محض تقریبی ہے۔ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں۔ صوفیاء یا گزشتہ انبیاء نے ذہن نشین کرنے کے لیے یہ اصطلاح وضع کر دی کیونکہ ان ناموں کا ذکر یہودیوں کی کتابوں میں بھی آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے اگر موٹے موٹے نام بھی گنے جائیں تو وہ بھی ننانوے سے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر نام در نام آجاتے ہیں۔ پھر ان کی تشریح آجاتی ہے اور اس طرح یہ نام کئی ہزار کیا کئی لاکھ تک جا پہنچتے ہیں۔“ نیز آپ نے فرمایا: (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۰ / اپریل ۱۹۵۱ء، جلد ۳۲ صفحہ ۷۷) قرآن کریم کی پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔ اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کس طرح عمل کرتی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں چار صفات کے ارد گرد گھومتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں۔ (1) وہ رَبِّ الْعَلَمین ہے یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کر کے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اُسے اعلیٰ حالت تک پہنچاتا ہے۔ (۲) وہ رحمن ہے یعنی تمام ایسے ذرائع بغیر مخلوق کی کسی کوشش اور بغیر اس کے استحقاق کے مہیا فرماتا ہے جن کے بغیر مخلوق کی ترقی نا ممکن ہوتی ہے۔