صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 715 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 715

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۱۵ ۹۷ - كتاب التوحيد بَاب ۱۲: إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ اسْمِ إِلَّا وَاحِدَةً اللہ کے ایک کم سونام ہیں قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُو الْجَلَالِ الْعَظَمَةِ حضرت ابن عباس نے کہا: ذوالجلال کے معنی بڑائی والا اور البر کے معنی لطیف ہیں۔الْبَرُّ اللطيف۔۷۳۹۲: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۳۹۲: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا۔ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَحْصَيْنَاهُ سونام ہیں۔جس نے ان کو پورے طور پر سمجھ لیا جنت میں داخل ہوا۔أَحْصَيْنَاةُ کے معنی ہیں ہم حَفِظْنَاهُ۔أطرافه : ٢٧٣٦، ٦٤١٠- نے اس کو یاد کیا۔ریح : إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ اسْمِ إِلَّا وَاحِدَةً: اللہ کے ایک کم سونام ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ ابوہریرہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تنانو نے نام ہیں یعنی سو میں سے ایک کم جو شخص اُن کو خوب گن رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ وتر ہے۔وتر کو پسند کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ بھی ایک ہے اور اس نے اپنے نام بھی نانوے ہی رکھتے ہیں اس حدیث کا اصل مطلب یہ ہے کہ صفات الہیہ کا گہر امطالعہ انسان کو حقیقی متقی بناتا ہے تقویٰ کے معنے بھی یہی ہوتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ساری صفات کو اپنے مد نظر رکھے گا وہ کسی خوبی کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور جو شخص ہر خوبی کو اپنے سامنے رکھے گا اور ہر نیکی پر عمل کرے گا