صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 714
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۱۴ ۹۷ - كتاب التوحيد تشریح حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ مقلب القلوب ہے سوائے خدا تعالی کے دلوں پر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔آنا فانا دل بدل جایا کرتے ہیں محبتیں نفرتوں میں بدل جاتی ہیں، نفرتیں محبتوں میں بدل جاتی ہیں مگر اس پر محض اللہ کا تصرف ہے اور قرآن کریم خوب کھول کر اس بات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے محمد ! تیرا بھی اختیار نہیں ہے دلوں پر۔لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (الانفال :۶۴) تیرے جیسا حسین ، جاذب نظر وجود اور پھر فیاض ایسا ہو کہ جو کچھ ہے وہ خرچ کر دے اور تو ایسا وجو د ہے کہ اگر ساری دنیا کے خزانے بھی تجھے ہم عطا کر دیتے ، تب بھی خدا کی راہ میں خرچ کر دیتا۔لُو انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا کا مطلب یہ ہے اگر ہم تجھے زمین کے خزانوں پر قدرت دیتے تو اس کا طبعی نتیجہ ، ایک لازمی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ تو نے سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دینا تھا تب بھی یہ دل تیرے لئے نہیں بدل سکتے تھے۔یہ اللہ ہے جس نے دلوں کو تبدیل کیا ہے اور باہمی محبت بھی پیدا کی ہے اور تیرے لئے بھی عشق پیدا کر دیا ہے۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور جب دلوں کو بدلتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو حمد اور شکر کی طرف طبیعت مائل ہونی چاہئے نہ کہ اپنی کسی چالا کی یا اپنی کسی بڑائی کی طرف اور خصوصاً اس دور میں جس تیزی سے ہم جماعت کی طرف رحجان دیکھ رہے ہیں اس کے بعد تو حقیقاً اندھا بھی ہو تو اس کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ انسانی کوشش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔انسانی کوشش جو نظر آرہی ہے وہ بھی توفیق باری سے نظر آرہی ہے۔اللہ تو فیق عطا فرمارہا ہے ،خود لا رہا ہے پکڑ پکڑ کے ، خود چلا رہا ہے اور پھر وہ رستے آسان کرتا چلا جاتا ہے، لمبے سفر جلدی جلدی طے فرمارہا ہے۔“ 66 (خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۴/ اکتوبر ۱۹۸۵ء، جلد ۴ صفحه ۸۱۶)